
اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران ملک میں فحاشی اور جنسی زیادتیوں سےمتعلق سوال پر کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ عورتیں برقعہ پہنیں،عورت کے پردے کا تصوریہ ہے کہ معاشرے میں بے راہ روی سے بچا جائے، ہمارے ہاں ڈسکوز اور نائٹ کلب نہیں ہیں، لہذا اگر معاشرے میں بے راہ روی بہت بڑھ جائے گی اور نوجوانوں کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کی کوئی جگہ نہ ہو، تو اس کے برے نتائج نکلیں گے،اگر عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو لامحالہ اس سے مردوں پراثر پڑے گا سوائے اس کے کہ وہ روبوٹ ہوں، جہاں تک جنسی تشدد ہے اس کا تعلق معاشرے سے ہے، جس معاشرے میں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے وہاں اس سے اثر پڑے گا لیکن امریکا جیسے معاشرے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا،انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ مغربی معاشرے سے مختلف ہے، ہو سکتا ہے کہ مغربی معاشرے میں عورتوں کے کپڑوں سے مردوں کو فرق نہ پڑے، مگر یہ کہنا کہ جو آپ کے معاشرے میں درست ہے وہ ہمارے معاشرے میں بھی ہو، بقول ان کے یہ ثقافتی سامراجی رویہ ہے۔


































