
ابوظہبی : متحدہ عرب امارات نے 3 ماہ کے دوران 5ہزارصیہونیوں کو شہریت دے دی، یہ شہریت قوانین میں تبدیلی کے بعد دی گئی نئے قانون کے تحت دنیا کے کسی بھی ملک کے سرمایہ کار، پروفیشنلز، خصوصی قابلیت کے حامل افراد اور ان کے اہلخانہ امارات کی شہریت حاصل کرسکتے ہیں، اس قانون کا فائدہ اٹھاتے 5 ہزارصیہونیوں نے متحدہ عرب امارات کی شہریت حاصل کرلی ہے، تحریک جہاد اسلامی فلسطین نے متحدہ عرب امارات میں صیہونیوں کو شہریت دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، ترجمان طارق سلمی نے کہا کہ اسرائیلیوں کو شہریت دینے کا اقدام متحدہ عرب امارات کے غدار حکمرانوں کے ماتھے پر کلنگ کا ایک اور ٹیکہ ہے، انہوں نے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والی عرب حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں کیونکہ حالیہ جنگ نے صیہونی دشمن کی شکست کو واضح کردیا ہے۔


































