
معاہدہ کے تحت آزادی کے پانچ سال بعد سنجار سے تمام دہشت گردنکل گئے ، عراقی فورسز کی دو بریگیڈنے شہر کے تمام اہم مقامامات کا کنٹرول سنبھال لیا
فورسز عراق اور شام کے سرحدی علاقوں کی سکیورٹی پر بھی مامور رہیں گی، نقل مکانی کرنے والے ساڑھے چار لاکھ ایزدیوں نے واپسی شروع کردی
بغداد (نیوز ڈیسک) عراقی صوبہ نینوا کے شہر سنجار کی داعش کے قبضے سے آزادی کے پانچ سال بعد علاقے سے تمام دہشت گردوں کا انخلا ہوگیا ہے، عراق کی مرکزی حکومت اور کردستان خطے کی حکومت کے درمیان اکتوبر میں شہر خالی کرنے کا معاہدہ ہوا تھا،معاہدہ کے بعد 20نومبر کو عراقی حکومت نے شہر میں وفاقی فورسز کے دو بریگیڈ کی تعیناتی کا حکم دیا تھا،عراقی فورسز کے علاقے میں تعیناتی سے پہلے تمام دہشت گرد وہاں سے نکل گئے ، عراق کے مشترکہ آپریشن کمانڈ کے ترجمان بریگیڈیر تحسین الخفاجی کا کہنا ہے کہ عراق کی پولیس اور سرحدی فورسز سنجار میں سکیورٹی کے فرائ ض کی ادائیگی کے علاوہ عراق اور شام کے سرحدی علاقوں کی سکیورٹی پر بھی مامور رہیں گے، داعشی دہشت گردوں نے 2014 میں سنجار شہر پر قبضہ کر کے یہاں بسنے والے 40ہزار ایزدیوں کا قتل عام کیا اور کئی ایزدی لڑکیوں اور خواتین کو موصل اور رقہ میں فروخت کرنے کے مقصد سے اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے،عراقی فورسز کی تعیناتی کے بعدعلاقے سے نقل مکانی کرنے والے ساڑھے چار لاکھ ایزدیوں نے واپسی شروع کردی ہے اور اب تک 34ہزار افراد واپس آچکے ہیں


































