Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

جمال پسندی

تحریر: آیت اللہ مہدوی کنی
حسن و جمال سے لگاؤ انسان کے فطری تقاضوں کا حصہ ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق اچھائی، محبت کے جذبے، تجسس و تحقیق کے جذبے اور مذہبی جذبے سے مل کر انسان کے چار معنوی پہلو تشکیل پاتے ہیں۔ قرآن کریم اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ انسان جمالیات کا عاشق ہے اور زندگی کی پر نشاط سرگرمیوں اور فعالیتوں کا اہم ترین سرچشمہ یہی جذبہ ہے۔
چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
”مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہ جانے والی نیکیساں پروردگار کے ہاں ثواب اور امید دونوں کے لحاظ سے بہتر ہیں۔ (سورہ کہف آیت ۶۴)
قرآن نے انسان کے جمالیاتی حسن کو ہرگز ختم یا ممنوع قرار نہیں دیا بلکہ وہ ببانگ دہل اعلان کرتا ہے کہ خدا کی طرف سے عطا کردہ زینت اور لذت کے اسباب اصولی اور بنیادی طور پر اللہ کے نیک اور صالح بندوں کے لئے ہیں اور دوسرے لوگ مومنین کے دسترخوان کے ریزہ خوار ہیں۔ البتہ اللہ کی نعمتوں سے استفادہ کی کیفیت اور اندازے کے متعلق بعض ضوابط اور پابندیوں کی رعایت سالک راہ حق کے لئے ضروری ہے۔
قرآن کا ارشاد ہے:
”اے پیغمبر ؐ کہہ دیجئے کہ اللہ کی زینتوں کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں اور پاکیزہ رزق کو کس نے حرام قرار دیا ہے؟ کہہ دیجئے کہ یہ دنیا میں ایمان لانے والوں کے لئے ہیں (اگرچہ دوسرے لوگ بھی ان سے استفادہ کرتے ہیں لیکن) قیامت کے دن یہ صرف مومنوں کے لئے ہیں۔ ہم اس طرح اپنی آیات آگاہ لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتے ہیں۔“ (سورہ اعراف آیت ۲۳)
عبادت کے وقت زینت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”اے اولاد آدم ؑ ہر مسجد کی طرف جاتے وقت اپنی زینت کا سامان ساتھ لیتے جاؤ۔“ (سورہ اعراف آیت ۱۳)
لباس، زینت کا ایک ذریعہ
اگرچہ حقیقی زینت اور حسن، روح کو معنوی کمالات سے مزین کرنے سے عبارت ہے لیکن معلوم ہونا چاہیے کہ زینت کا دائرہ معنوی کمالات تک محدود نہیں بلکہ جسمانی اور ظاہری زینتوں میں بھی شامل ہے۔
زینت کا ایک مظہر انسان کا لباس ہے۔ اس بارے میں معصومین ؑ کے بعض فرامین کتابوں میں مذکور ہیں۔ جناب بحرانی قرآن کی آیت خذوازینتکم ……کی تشریح میں یوں نقل کرتے ہیں:
حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ نماز کے وقت اپنا بہترین لباس پہنتے تھے۔جب آپؑ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپؑ نے فرمایا”اللہ تعالیٰ صاحب جمال ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے اسی لئے میں اپنے پروردگار کی خاطر اپنی زینت کا سامان تیار کرتا ہوں جیسا کہ اس کا فرمان ہے کہ”عبادت کے وقت اپنی زینت کا سامان کرو۔“
”پس اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ میں اپنا بہترین لباس زیب تن کروں۔“
لوگوں سے ملاقات کے وقت رسول اکرمؐ کی سیرت طیبہ:
اس بارے میں طبرسی مرحوم نے حضرت امام صادق ؑ سے ایک حدیث نقل کی ہے جسے آپؑ نے اپنے والد گرامی امام محمد باقر ؑ سے نقل کیا ہے وہ حدیث یہ ہے:
”ایک شخص نے درِ رسول ؐ پر ملاقات کی اجازت چاہی۔ پس رسول اللہؐ اپنے کمرے میں موجود پانی کے برتن کے پاس کھڑے ہوگئے اور اس میں دیکھ کر اپنی ریش مبارک سنوارنے لگے۔ جب رسول اللہؐ باہر جاکر واپس تشریف لائے تو بی بی عائشہ ؓ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ؐ! آپؐ بنی آدم ؑ کے سردار اور رب العالمین کے پیامبر ہیں۔ آپؐ کو (پانی کے) برتن کے پاس کھڑے ہو کر اپنی ریش مبارک اور سر کے بال سنوارنے کی کیا ضرورت تھی؟ رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ کو یہ پسند ہے کہ جب اس کا مومن بندہ اپنے بھائی سے ملاقات کے لئے جانے لگے تو وہ بن سنور کر اور تیار ہو کر نکلے۔“
رسول اکرمؐ دوسروں کو بھی صفائی اور صاف ستھرا رہنے کا حکم دیتے تھے۔
چند اہم نکات
یہاں چند نکات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے جو یہ ہیں:
الف:۔ میانہ روی اور اعتدال
قرآن کریم ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ انسان کو ہر حالت میں اعتدال اور میانہ روی کا خیال رکھنا چاہیے اور اسے اللہ کے وضع کردہ آداب کے بہانے اسراف اور تعیشات کا غلام بن کر نہیں رہنا چاہیے۔
”کھاؤ پیو اور فضول خرچی سے کام نہ لو کیونکہ وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
ب:۔ حلال اور حرام کا خیال رکھنا
حضرت امام صادق ؑ کا فرمان ہے:
”اچھا لباس پہنو اور بن سنور کر رہو۔ کیونکہ اللہ صاحب جمال ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ تمہارے لباس کا تعلق مال حلال سے ہو۔“
لباس میں شہرت پسندی سے اجتناب
رسول اللہ ؐ نے فرمایا:
”جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنے اللہ اسے ذلت کا لباس پہنا دیتا ہے۔“
حضرت امام جعفر صادق ؑ کی حدیث ہے:
”آدمی کی ذلت و خواری کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ایسا لباس پہنے یا ایسی سواری پر سوار ہو جائے جو اس کی شہرت کا باعث ہو۔“

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular