
وزیر اعظم عمران خان نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں اسٹنٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا، اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب
زیادہ لوگ امراض قلب سے مرتے ہیں، اپنے اسٹنٹ بنانا بہت اچھا فیصلہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا پہلے ذہن میں تبدیلی آتی ہے پھر نظام تبدیل ہوتا ہے، قومیں طے کرتی ہیں کہ جانا کدھر ہے، بدقسمتی سے اداروں میں باہمی تعاون کا فقدان ہے، ہمارا وژن دھندلا چکا ہے، جتنا بڑا وژن ہوگا اتنی مشکلات آئیں گی، انسان برے وقت میں سیکھتا ہے، ڈالر کی کمی کے باعث ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، ملکی ترقی کیلئے ڈالر آنے چاہیئے نہ کہ باہر جانے چاہیئے۔
عمران خان کا کہنا تھا چین نے ایکسپورٹ کو بڑھایا ان کا ملک ترقی کرتا گیا، ترکی کو بھی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، اردوان نے ترکی کو تبدیل کر دیا، انہوں نے ایکسپورٹ بڑھائی، اردوان نے کہا ہماری 3 ترجیحات ہیں برآمدات، برآمدات اور برآمدات، 60 کی دہائی میں پاکستان کی سمت درست تھی، ترقی کے سفر میں منزل اور سمت کا تعین ضروری ہے، حکومت سنبھالی تو برآمدات کے مقابلے درآمدات زیادہ تھیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ تارکین وطن ہیں، اوورسیز پاکستانی ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں، مائنڈ سیٹ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسا ماحول بنانا ہوگا کہ اوورسیز پاکستانی واپس آئیں۔
عمران خان کا کہنا تھا اللہ نے انسان کو علم دیا ہے، علم طاقت ہوتی ہے، اسپورٹس میں انسان جدوجہد کرنا سیکھتا ہے، کسی ملک کیلئے ایشین ٹائیگر بننا کوئی وژن نہیں ہونا چاہیئے، کیا آپ ایشین ٹائیگر بننا چاہتے ہیں ؟ پیسہ بنانا بہت چھوٹا وژن ہے، اپنی سوچ چھوٹی نہ رکھیں، پیسہ بنانا سب سے چھوٹی سوچ ہے، ہم سمجھتے ہیں پیسہ ہوگا تو خوشی ملے گی، ہم اپنی صلاحیتوں کو سمجھ نہیں پاتے، خوشی تب آتی ہے جب روح خوش ہوتی ہے، خوشی اللہ تعالیٰ کے بتائے راستوں سے جڑی ہے، شوکت خانم کا دروازہ جب پہلی بار کھلا تو مجھے بے انتہا خوشی ہوئی۔
وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا جب کورونا آیا تو ہم پاکستان میں کچھ بھی نہیں بنا رہے تھے، کورونا وائرس کا حفاظتی سامان، وینٹی لیٹرز بنانا شروع کر دیئے ہیں، لوگ امراض قلب کا علاج کرانے بیرون ملک جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے، امید کرتے ہیں اب وہ لوگ پاکستان واپس آ کرعلاج کرائیں گے۔
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے نسٹ سائنس پارک میں یونیورسٹی میں دل کے امراض کے اسٹنٹ تیار کرنے والے یونٹ کا افتتاح کیا۔ نسٹ یونیورسٹی میں اسٹنٹ کی تیاری سے پاکستان کو 8 ارب روپے سالانہ بچت ہوگی۔
پاکستان ہارٹ اسٹنٹ بنانے والے دنیا کا 18 واں ملک بن گیا۔ ہارٹ اسٹنٹ تیاری میں مسلم ممالک میں ترکی کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیائی ممالک میں بھارت کے بعد پاکستا ن میں اسٹنٹ تیار ہوگا۔


































