حجت الاسلام قرائتی
ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں اور خبردار ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے برا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے (سوره حجرات: 12)سوال: سوء ظن اور بدگمانی کی اقسام کی وضاحت کریں؟جواب: سوء ظن کی مختلف قسمیں ہیں جن میں سے کچھ پسندیده اور کچھ ناپسندیده ہیں:1️⃣اللہ تعالی سے سوء ظن: جیسے کہ حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ "جو کوئی بھی زندگی گزارنے کے اخراجات کے خوف سے ازدواج نہیں کرتا، درحقیقت وه خدا کی نسبت سوء ظن رکھتا ہے”۔ گویا اس کا خیال یہ ہے کہ اگر وه تنہا ہو تو اللہ اس کو رزق دے سکتا ہے لیکن اگر اس کے ساتھ بیوی بھی ہو تو پھر اللہ رزق نہیں دے سکتا!! اس سوء ظن کی مذمت کی گئی ہے۔2️⃣لوگوں سے سوء ظنّ: اس آیت میں لوگوں کی نسبت سوئے ظن رکھنے کی مذمت کی گئی ہے۔3️⃣اپنے آپ سے سوء ظنّ: خود اپنی جانب سوء ظن رکھنے کو پسند کیا گیا ہے کیوںکہ انسان کو خود اپنی جانب حسن ظن نہیں رکھنا چاہیے اور اپنے ہر کام کو بے عیب خیال نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت علی علیہ السلام خطبہ ھمام میں متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں "باتقوی افراد کے کمالات میں سے ایک یہ ہے کہ وه خود اپنی نسبت سوء ظن رکھتے ہیں”۔جی ہاں! وہ افراد جو اپنے آپ کو بے عیب سمجھتے ہیں در حقیقت ان میں علم اور ایمان کے نور کی کمی ہے اور نور کی کمی کی صورت میں انسان کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اگر آپ ایک بڑے اور تاریک ہال میں چھوٹی سی ٹارچ کے ساتھ داخل ہوں تو بڑی چیزوں کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھ پائیں گے۔ لیکن اگر ایک طاقتور روشنی جیسے فلڈلائٹ کے ساتھ داخل ہوں تو حتی ہال میں موجود ماچس کی تیلی یا سگریٹ کا ٹکڑا بھی دیکھ سکتے ہیں۔وہ افراد جن میں نور کی کمی ہو تو انہیں بڑے گناہوں کے سوا کوئی اور چیز دیکھنے میں نہیں آئے گی لھذا ایسے افراد بعض اوقات کہتے ہیں کہ "ہم نے کسی کو قتل تو نہیں کیا یا ہم تو کسی کے گھر میں دیوار پھلانگ کر داخل نہیں ہوئے!!” یعنی گناہ کو بس اس قسم کے کاموں تک ہی محدود سمجھتے ہیں۔لیکن اگر کسی انسان میں ایمان کا نور زیادہ ہو تو وه اپنے اندر موجود تمام لغزشوں، حتی معمولی سے معمولی لغزش کو بھی دیکھ لے گا اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرے گا۔اگر کوئی شخص اپنے آپ سے مطمئن ہوگیا تو پھر وه کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا۔ اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ہمیشہ اپنے ماضی کی جانب دیکھتا ہے اور اس راستے کی جانب نگاہ کرتا ہے جسے وه طے کر چکا ہے اور پھر اس پر غرور کرتا ہے۔ لیکن اگر وه اپنے سامنے کی جانب دیکھے اور اس راستے پر نگاہیں دوڑائے جو اس نے ابھی تک طے نہیں کیا تو وه جان لے گا کہ باقی بچا ہوا راستہ طے شدہ راستے سے کئی گنا زیادہ ہے!!


































