Thu Oct 15, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

اپنے عیوب کا علاجآیت اللہ مہدوی کنی

مومن اور صاحب اخلاق انسان کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ عیوب سے مبرا رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر شخص یہ جانتا ہے کہ عیب جوئی ایک قبیح اور غیر پسندیدہ صفت ہے کیونکہ انسان تب کامل ہوتا ہے جب وہ اپنے عیوب کو برطرف کرے۔ اس بات میں کسی کو شک نہیں کہ معصومؑ ہستیوں کے علاوہ سارے انسان نقائص اور کمزوریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان میں سے کوئی غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا بنابریں سب پر لازم ہے کہ اپنے عیوب کو برطرف کرنے کی کوشش کریں اور یہ اس وقت ممکن ہے جب انسان پہلے اپنے عیوب کو پہچانے اور ان کا اعتراف کرے۔ کیونکہ جب تک آدمی اپنے عیوب سے آگاہ نہ ہو اور ان کا معترف نہ ہو ان کا معالجہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔سوال:۔ انسان اپنے عیوب سے کیسے آگاہ ہو سکتا ہے؟جواب:۔ انسان تین طریقوں سے اپنے عیوب کو پہچان سکتا ہے۔وہ طریقے درج ذیل ہیں:(1) مراقبہ اور محاسبہ : یعنی انسان اپنے اعمال و کردار پر نظر رکھے اور اپنا محاسبہ کرے تو وہ اپنے عیوب کو بخوبی پہچان سکتا ہے۔(2) غلط، برے اور بداخلاق لوگوں کے اعمال و کردار سے عبرت حاصل کرنا۔ سعدی ؒ کے بقول حضرت لقمان ؑ سے پوچھا گیا کہ آپ نے کس سے ادب سیکھا ہے؟ بولے بے ادب لوگوں سے۔(3) ایسے مخلص اور ہمدرد دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جو نصیحت کرنے سے دریغ نہ کرتے ہوں اور اپنے دوست کی خامیوں کو چاپلوسی اور لحاظ داری کے بغیر اس کے گوش گزار کرتے ہوں۔عاقل اور صاحب ایمان آدمی جس طرح ضرورت کے مواقع پر ڈاکٹر یا طبیب کی طرف رجوع کرتا ہے تاکہ کسی پوشیدہ یا لا علاج بیماری میں مبتلا نہ ہو اسی طرح اسے اخلاقی مسائل میں بھی اخلاقی طبیب اور معلم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔جی ہاں حقیقی اور باایمان دوست اس راستے میں بہترین رہنمائی کرسکتے ہیں اور اپنے ساتھی کو اس کی بیماریوں سے آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ وہ جلد سے جلد ان کا علاج کرنے کی کوشش کرے۔ البتہ یہ بات اس وقت مفید اور چمر بخش ثابت ہو سکتی ہے جب انسان اپنے مخلص دوستوں اور ہمدرد ساتھیوں کی نصیحتوں کو دل کے کانوں سے سنے اور ان سے تقاضا کرے کہ وہ اسے اس کی غلطیوں اور لغزشوں سے آگاہ کرتے رہیں ۔اخلاقی ذمہ داریجس طرح اسلام نے مخلص اور قابل اعتماد دینی بھائیوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح ان کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صحیح اور مفید مشورہ دینے سے دریغ نہ کریں کیونکہ دوست وہ ہے جو اپنے ساتھی کو اس کے عیوب سے آگاہ کرے۔احادیث میں مذکور ہے:’’ آپ کا دوست وہ ہے جو آپ کو برے کاموں سے روکے اور آپ کا دشمن وہ ہے جو آپ کو فریب دے اور برے کاموں کو اچھا قرار دے۔‘‘امام صادق ؑ نے فرمایا:’’ میرا سب سے محبوب دوست وہ ہے جو میرے عیوب سے مجھے آگاہ کرے۔‘‘عیب چھپانا خیانتجس طرح عیب جوئی قبیح اور حرام ہے اسی طرح عیوب سے آگاہ نہ کرنا بھی بددیانتی ہے کیونکہ مومن پر لازم ہے کہ وہ آئینے کی طرح اپنے دینی بھائی کو اس کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کرے۔ البتہ اس کی خامیاں خود اس کو بتائے نہ کہ دوستوں کے پاس کیونکہ آئینے کی صفت یہی ہے۔امام صادق ؑ نے فرمایا:’’ جو شخص اپنے دینی بھائی کو کسی غیر پسندیدہ عمل میں مبتلا دیکھے لیکن اسے نہ روکے جبکہ وہ ایسا کرنے پر قادر ہو تو یہ اس کے ساتھ خیانت ہے۔‘‘عیبوں سے اجتناب اور عیب جوئی کی قباحتعیبوں سے دوری کی ضرورت پر گفتگو ہو چکی ہے اس سلسلے میں جس قدر گفتگو کی جائے کم ہے۔ اس کے بعد ہم عیب جوئی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ عیب جوئی کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔یاد رہے کہ ان دونوں کے درمیان نہایت نازک سا فرق ہے کیونکہ اگرچہ ان دونوں میں بظاہر عیوب کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن عیب جوئی میں عیب کا ذکر دوسرے کی تحقیر اور تنقیص کے لئے ہوتا ہے اور دوسری قسم میں عیوب کا ذکر جذبۂ اصلاح و ہمدردی کے تحت ہوتا ہے۔ عیب جوئی میں دشمنی و عداوت کار فرما ہوتی ہے لیکن عیبوں سے نجات دلانے میں نصیحت اور ہمدردی کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔اگر دوسروں کے عیوب کا ذکر کرنے کا مقصد خیر خواہی اور ہمدردی ہو تو لازمی طور پر مشفقانہ اور آبرومندانہ سلوک کا مظاہرہ ہوگا لیکن اگر دوسرے کی تنقیص اور تحقیر مطلوب ہو تو طبعی طور پر تحقیر آمیز اور توہین آمیز سلوک سامنے آئے گا۔خلاصہ یہ کہ اگرچہ ہدف کے بہانے ہر قسم کے وسیلے کی اچھی تاویل نہیں کی جاسکتی لیکن ہدف وسیلے کی حد بندی کرتا ہے یعنی ہدف وسیلے کو اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے۔بنابریں جو کوئی دوسرے شخص کو اس کے عیوب سے آگاہ کرنے کا طالب ہو اسے نیک نیتی اور پاک دل کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے اور بات کرتے وقت ادب و احترام کا مکمل لحاظ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی اہانت نہ ہونے پائے اور تعمیری تنقید کی بجائے عیب جوئی اور طعن و تشنیع کا راستہ اختیار نہ کیا جائے کیونکہ اس کا اثر الٹا ہوگا۔ کوئی انسان خطا و لغزش سے مبرا نہیں ہو سکتا اور کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غلطیوں کا مرتکب نہیں ہوتا سوائے معصوم اماموں ؑ کے جو خود معصوم ہونے کے باوجود اپنے آپ کو اللہ کے حضور ناقص اور گناہگار گردانتے تھے۔ مثال کے طور پر امام سجاد ؑ خدا کے حضور عرض کرتے ہیں:’’خدایا میں تجھ سے اس نفس کی شکایت کرتا ہوں جو( مجھے) برائی کی بہت ترغیب دیتا ہے۔ ہر خطا کی طرف سبقت کرتا ہے۔ تیری نافرمانیوں کا دلدادہ ہے اور تیرے غیظ و غضب کو دعوت دیتا ہے۔‘‘امام علی ؑ نے فرمایا:’’ لوگوں کے درمیان کسی کو نصیحت کرنا اس (کی شخصیت) کو کچلنے کا باعث ہے۔‘‘عیب جوئی کا برا انجاماگر دوسروں کے عیوب کا ذکر کرنے کا مقصد ان کی رسوائی ہو تو یقیناًایک دن آئے گا کہ اللہ اسے لوگوں کے درمیان رسوا کردے گا۔امام باقر ؑ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:’’ اے بظاہر ایمان لانے والوجو دل سے مسلمان نہیں ہوئے ہو! مسلمانوں کی لغزشیں مت ڈھونڈو کیونکہ جو کوئی مسلمانوں کی لغزشوں کے پیچھ پھرتا ہے اللہ اس کی خطاؤں کو طشت ازبام کردیتا ہے اور اسے ذلیل و خوار فرماتا ہے۔‘‘عیب جوئی اور کفرجو لوگ بظاہر اپنے دینی بھائی کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں اور اس کا اعتماد حاصل کرتے ہیں لیکن باطن میں اس سے دشمنی رکھتے ہیں ، اس کی لغزشوں ، خطاؤں اور کمزوریوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں تاکہ موقع پاکر اسے رسوا کریں وہ آخر کار کفر کی حدود کو چھونے لگتے ہیں ۔اس سلسلے میں امام باقر ؑ کا یہ ارشاد ملاحظہ ہو:’’ انسان کو کفر کی سرحدوں کے نزدیک لانے والے امور میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے دینی بھائی کے ساتھ بظاہر دوستی کا مظاہرہ کرے لیکن (درحقیقت) وہ اس کی لغزشوں کو گنتا رہے تاکہ کسی دن اسے رسوا کرے۔‘‘دردناک عذابتعمیری تنقید کی بجائے دوسروں کے عیوب کو آشکار کرنے اور ان کی حیثیت کو گھٹانے کی کوشش کرنے والے عظیم گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس گناہ کے باعث وہ دردناک عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔اس سلسلے میں قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:’’ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں کے درمیان برائیوں کا چرچا ہو بے شک ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ (حقیقت حال کو) خوب جانتا ہے جبکہ تم لوگ نہیں جانتے ہو۔‘‘ (سورہ نور آیت19)یہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اللہ یہ نہیں فرماتا جو لوگ ایمان والوں کے درمیان برائیاں پھیلاتے ہیں وہ عذاب کے مستحق ہیں بلکہ فرماتا ہے جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں کے درمیان برائی کا چرچا ہو وہ عذاب پائیں گے۔یہ بذاتْ خود اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان کی آبرو خدا کی نظر میں قابل احترام ہے اور وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مومنوں کے بارے میں کہی اور سنی جانے والی ہر چیز دوسروں کے پاس نقل کی جائے۔ کیونکہ اگر انسان اپنی آنکھوں سے کسی کو گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھے تو بھی اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اس کا راز فاش کرے کہاں یہ کہ کوئی بات صرف دوسروں سے سنی ہو اور خود نہ دیکھی ہو۔(غور کریں)برائیوں کے پھیلاؤ کامقابلہ کرنے کے طریقے1۔ عیب جوئی کرنے والوں کی مصاحبت سے اجتنابسب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ عیب جوئی کرنے والے لوگوں سے دوری کی روش اختیار کی جائے۔دوسروں کی عیب جوئی کرنے والوں کی مثال مکھیوں جیسی ہے جو گندگی پر بیٹھتی ہیں یہ افراد فقط منفی پہلوؤں پر توجہ کرتے ہیں اور لوگوں کی مثبت صفات نظر انداز کردیتے ہیں ۔چنانچہ امام صادق ؑ کا ارشاد ہے:’’ یعنی برے اور پست فطرت لوگ دوسروں کے عیوب اور برے کاموں کی ٹوہ میں رہتے ہیں لیکن ان کی اچھی باتوں سے آنکھیں موند لیتے ہیں جس طرح مکھی بدن کے گندے حصوں کے پیچھے پھرتی ہے اور صاف جگہوں کو چھوڑ دیتی ہے۔‘‘بنابریں ان لوگوں کے ساتھ مصاحبت اور ہم نشینی سے احتراز ضروری ہے ایسے لوگوں کے ساتھ نہ صرف یہ کہ دوستی قائم نہ کی جائے بلکہ ان کو پانے شدید ترین دشمنوں کے زمرے میں شمار کرنا چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے ساتھ نشست و برخاست کے نتیجے میں ایک دن وہ کسی نقص کا مشاہدہ کریں اور انسان کی عزت خاک میں ملادیں ۔2۔ عیب جوؤں سے بے اعتنائی:برائیوں کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کا ایک موثر ترین راستہ عیب جوئی کرنے والوں سے بے اعتنائی برتنا ہے۔ عیب جوئی کرنے والوں کی باتوں کو اہمیت نہ دی جائے تو یہ لوگ مایوس ہو کر اپنی روش چھوڑ دیں گے۔محمد بن فضیل کا بیان ہے میں امام ہفتم حضرت موسیٰ بن جعفر ؑ کی خدمت میں پہنچا اور میں نے عرض کیا۔ قربان جاؤں ! میں نے اپنے برادر دینی کے بارے میں ایسی بات سنی ہے جو مجھے ناپسند ہے لیکن جب میں خود اس سے سوال کرتا ہوں تو وہ انکار کرتا ہے حالانکہ قابل اعتماد لوگوں کی ایک جماعت سے میں نے یہ بات سنی ہے۔امام ؑ نے فرمایا:’’ اے محمدؐ! اپنے برادر دینی کے معاملے میں اپنی سماعت اور بصارت کی تکذیب کرو۔ اگر پچاس افراد گواہ کی حیثیت سے تیرے پاس قسم کھا کر اس کے خلاف کوئی بات کہیں لیکن وہ خود اس کا انکار کرے تو اس کی تصدیق اور ان کی تکذیب کرو۔ (اس کے بعد فرمایا) خبردار اس کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ پھیلاؤ جو اس کے لئے باعث ننگ ہو اور جس سے اس کی شخصیت اور حیثیت تباہ ہوتی ہو وگرنہ تمہارا شمار ان لوگوں میں ہوگا جن کے بارے میں اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے بہ تحقیق جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنین کے درمیان برائیوں کا چرچا ہو (ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے)۔‘‘نتیجہ بحثاس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ انسان کو اپنے عیوب سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں دوسروں کے نظریات اور تنقیدی خیالات سے بھی رہنمائی حاصل کرنی چاہیے نیز مخلص، نیک اور قابل اعتماد افرا دکی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دوسری طرف سے وہ دوست جو خیر خواہی کی بناء پر اپنے دوست کو اس کی خطاؤں اور لغزشوں سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ بہت خفیہ اور خصوصی طریقے سے یاد دہانی کرائیں ۔ لوگوں کے سامنے ایسا نہ کریں۔اگر کوئی شخص عیوب و نقائص سے نجات دلانے اور نصیحت کے نام پر مومنوں کے عیوب اور گناہوں کو لوگوں کے درمیان فاش کرے تو وہ قرآن کی رو سے ان لوگوں کے زمرے میں شامل ہوگا جو چاہتے ہیں کہ برائیوں کا چرچا ہو ایسا آدمی دنیا و آخرت میں اللہ کے دردناک عذاب میں مبتلا ہو جائے گا۔

مزید پڑھیے

Most Popular