Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

امریکی صدر کا افغانستان میں گیارہ ستمبر سے فوجی انخلا شروع کرنے کا اعلان

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا اس سال گیارہ ستمبر سے شروع ہوگا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغان طالبان کے درمیان یکم مئی کی ڈیڈلائن رکھی گئی تھی جس پر عمل درآمد ممکن نہیں۔ امریکی صدر کی انتظامیہ کے سینیئر افسر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت غور اور پالیسی تجزیوں کے بعد صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ 20 برس بعد افغانستان میں موجود باقی ماندہ امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جائے گا۔ واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے گیارہ ستمبر کی تاریخ بہت سوچ سمجھ کر رکھی ہے کیونکہ اس سال نیویارک اور پینٹاگون میں القاعدہ کی جانب سے کئے گئے فضائی حملوں کو 20 برس مکمل ہوجائیں گے۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہے۔ اس سے قبل طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکہ نے یکم مئی کی متفقہ ڈیڈلائن میں اپنی افواج کو واپس نہ بلایا تو وہ غیرملکی افواج کے خلاف کارروائیاں شروع کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular