ایسے وقت جبکہ دنیا کورونا وائرس کی وبا میں الجھی ہوئی دنیا بھر میں روزانہ سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں اور ہزاروں مریض بن رہے ہیں ،اور اس کا سب سے بڑا شکار امریکا ہے اس کے باوجود امریکی حکام کے جنگجوانہ اور تسلط پسندانہ طرزعمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، عراق ہو یا شام یا پھر لبنان ، تینوں میں اسے اپنی شکست کسی بھیانک خواب کی طرح لگتی ہے اور اسے فتح میں بدلنے کیلئے کوئی نہ کوئی نیا ہتھکنڈا ختیار کرتا رہتا ہے یا پھر کسی پرانے وار کو نئے طریقے سے کرنے کی کوشش کرتا ہے ، اور یہ سب کچھ ہم عراق میں اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ،شام اور عراق میں رسوائی کے بعد امریکا ایک بار پھر دہشت گردی کے ذریعے بدامنی پھیلانے اور ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے کی ڈاکٹرائن کے ساتھ میدان میں اتر گیا ہے،عراق جہاں حشد الشعبی اور دوسرے مدافعتی گروپوں نے دہشت گرد تنظیم داعش کا سر کچل دیا تھا وہ امریکی سرپرستی میں پھر سے فعال ہوگئی ہے حالیہ دنوں میں داعش کے بڑھتے حملے اور ان کی شدت بتارہی ہے کہ اسے نہ صرف مالی بلکہ اسلحہ جاتی کمک بھی میسر آگئی ہے،امریکا میں عراق میں اپنا گھناونا کھیل کھیلنے کیلئے صرف داعش کو ہی فعال نہیں کیا ہے بلکہ اس نے دریائے فرات کے مشرقی حصے میں داعش سے وابستہ چھوٹے چھوٹے گروہ، کرد فورسز اور عرب باشندوں پر مشتمل ایک نیا مسلح دھشتگرد گروہ تشکیل دینے کا کام شروع کردیا ہے، ایک جانب داعش کو سیکورٹی فورسز خاص طور پر حشد الشعبی پر حملوں کو ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ اس پر دباو بڑھایا جائے تو دوسری جانب نئے گروپ کو مختلف خطوں میں پھیل کر مسلح کارروائیاں کرنے کا مشن سونپا گیا ہے،یقینا ان سارے حربوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ نئی عراقی حکومت پر ابتدا میں ہی دباو ¿ بڑھایا جائے اور اسے ایران کی حامی مزاحمتی قوتوں کو کچلنے یا کم ازکم محدود کرنے پر مجبور کیا جاسکے ،لیکن امریکی حربوں کو عراقی گروپ بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اسی لئے وہ عراقی سرزمین سے امریکی انخلا کے مطالبے میں شدت لارہے ہیں ،ان گروپوں نے نئے وزیراعظم مصطفی الکاظمی پر واضح کردیا ہے کہ انہیں اعتماد کا ووٹ اسی شرط پر دیا گیا ہے کہ وہ عراق سے امریکی انخلا کے معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کریں گے ، اس پر کسی حد تک پیشرفت بھی ہورہی ہے ،عراقی وزیراعظم نے امریکا کے ساتھ معاہدہ پر بات چیت کیلئے کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی ہے ، لیکن عراق سے نکلنا امریکا کوکسی طور گوارا نہیں ہے اور وہ قیام کو طول دینے کیلئے دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے لیکن یہ سہارا زیادہ عرصے ساتھ نہیں دے گا اور امریکا کو سب کچھ چھوڑ کر عراق سے جانا ہی ہوگا اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ عزت سے نکلے یا پھر ذلت و رسوائی کی راہ اختیار کرے۔


































