
تہران : ایران کے نو منتخب صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے اور امریکا کوظالمانہ پابندیوں کو بہرحال ختم کرنا ہوگا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں ابراہیم رئیسی نے کہاکہ ایرانی عوام نے 18 جون کو جو تاریخ رقم کی ہے وہ پوری دنیا کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔ صدارتی الیکشن میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت، کورونا کی وبا اور دشمنوں کی بے پناہ منفی تشہیراتی مہم اور پروپیگنڈوں کے باوجود انجام پائی جو اس پیغام کی حامل ہے کہ ایرانی عوام پوری طرح متحد ہیں اور وہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ اور شہدا خاص طور پر شہید جنرل قاسم سلیمانی کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہیں منتخب صدر نے خارجہ پالیسی کے تعلق سے کہا ہے کہ ایرانی عوام نے جو تاریخ رقم کی ہےاس سے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ جن ملکوں نے ایرانی عوام کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے وہ سمجھ لیں کہ یہ پالیسی ناکام رہی ہے اور ایرانی عوام پر اس کا اثر نہیں ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی ایٹمی معاہدے سے نہ تو شروع ہوگی اور نہ ہی اس تک محدود رہے گی خارجہ پالیسی کے میدان میں دنیا کو جان لینا چاہئے کہ اٹھارہ جون کو ایرانی عوام نے جو تاریخ رقم کی ہے اس کے بعد سے ہماری صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور اب دنیا کے سامنے ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔منتخب صدر نے کہا کہ ہم دنیا کے ساتھ متوازن تعلقات کے خواہاں ہیں اور ایٹمی مذاکرات میں بھی ہم قومی مفادات کو سرفہرست رکھیں گے اور ہماری حکومت ان مذاکرات کی حمایت کرے گی۔ تاہم مذاکرات صرف مذاکرات کے لئے نہیں ہوں گے اور ہم ان مذاکرات کو طول دینے کی اجازت بھی نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور یورپی ملکوں نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے وہ اس پر عمل کریں اور یورپی ملکوں سے ہم کہنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے دباؤ میں نہ آئیں اور ایٹمی معاہدے پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایرانی عوام کے حق کی بازیابی کی پوری کوشش کریں گے۔ امریکاکی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایرانی عوام کے خلاف اپنی ظالمانہ پابندیوں کو ختم کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ جب ایران نے ایٹمی معاہدے کے تعلق سے اپنے وعدے پر عمل کیا تو کیوں امریکا اور یورپ نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور اب بھی نہیں کررہے ہیں اور دنیا کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایران انسانی حقوق کی پاسداری کے میدان میں سرفہرست ہے اور ہرجگہ انسانی حقوق کے دفاع کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے اور جو لوگ آج دنیا میں اپنے آپ کو انسانی حقوق کا دعویدار بتارہے ہیں انہوں نے ہی دہشت گرد داعش کو پروان چڑھایا ہے اور انہیں آج انسانی حقوق کے بارے میں جواب دینا چـاہئے. امریکی صدر بائیڈن سے ملاقات سے متعلق سوال پر ایرانی صدر نے کہا کہ میں امریکی صدر بائیڈن سے ملاقات نہیں کروں گا۔


































