
کابل :افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکا جنگ سے متاثرہ ملک میں اس لیے آیا تھا کہ انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکے اور استحکام لا سکے مگر وہ 20 سال بعد ان دونوں مقاصد میں ناکام ہونے کے بعد واپس جا رہا ہے، وہ اپنے پیچھے جو میراث چھوڑ کر جا رہا ہے وہ ہے مکمل شرمندگی اور تباہی، اے پی سے انٹرویو میں کرزئی نے کہا کہ افغانستان میں انتہا پسندی بلندترین سطح پر ہے اور انخلا کرنے والی افواج ملک میں تباہی چھوڑ کر جا رہی ہیں، بین الاقوامی برادری یہاں 20سال پہلے آئی تھی اور اس کا واضح مقصد انتہا پسندی سےلڑنا اور استحکام لانا تھا، لیکن آج انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے، لہٰذا وہ ناکام ہو گئے ہیں، وہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا چاہتے تھے۔ ان کے بقول افغان عوام متحد ہیں اور ان کے اندر اس کی بھرپور خواہش موجود ہے اور اب ان کو اپنے مستقبل کی ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔


































