
معاشی، سماجی اور سکیورٹی لحاظ سے تعلقات بہت مددگار ہوں گے،اسرائیلیوں کا سعودی عرب میں خیرمقدم کرنے کو تیار ہیں،شہزادہ فیصل نے سچ اگل دیا
ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، ایران کے ایٹمی مذاکرات میں سعودی عرب اور اسرائیل کو شامل کیا جائے،سعودی وزیر کامضحکہ خیز مطالبہ
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح اشارہ دے دیا،امریکی چینل سی این این سے انٹرویو میں شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ خطے میں اسرائیل سے تعلقات پورے خطے کیلئے بہت زیادہ مفید ہیں،یہ معاشی، سماجی اور سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بہت زیادہ مددگار ہوں گے، سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کوئی پیشرفت ہوتی ہے اور فلسطینیوں کو 1967 کی سرحدوں پر مشتمل خود مختار ریاست کا درجہ ملتا ہے، اور اگر ہم اس راہ کو تلاش کر لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ خطہ بہت زیادہ محفوظ اور خوشحال ہو جائے گا جہاں اسرائیل سمیت ہر کوئی اس کی کامیابیوں میں اپنا کردار ادا کر سکے گا، اگر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاملے پر پیش رفت ہوتی ہے تو امید ہے کہ ہم اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب میں خوش آمدید کہیں گے،انہوں نے ایران کے ایٹمی مذاکرات میں سعودی عرب اور اسرائیل کو شامل کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا، انہوں نے ایران کے خلاف خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے الزام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات لبنان، شام، عراق اور یمن میں استحکام کے قیام کے بغیر بہتر نہیں ہو سکتے۔


































