
ائمہ اور علما نے اخوان المسلمین کے خلاف خطبہ دینے سے متعلق ہدایات پر عملدرآمد میں سستی کا مظاہرہ کیا اور پالیسی کی پیروی نہیں کی ،وزارت اسلامی امور کے الزامات
برطرفی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اخوان یا اس نظریہ کے حامی ہیں ، بلکہ یہ ان لوگوں کے خلاف وزارت کا باقاعدہ طریقہ کار ہے جو ہدایت پر عمل درآمد نہیں کرتے ،سعودی وزیر
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی حکومت نے آل سعود کی مخالفت کی پاداش میں درجنوں علما اور ائمہ مساجد کو سبکدوش کر دیا،ائمہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اخوان المسلمین کے خلاف خطبہ دینے سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد میں سستی کا مظاہرہ کیا ،اور حکومت کی پالیسیوں کی پیروی نہیں کی جس کی بنا پر وہ اس منصب کے اہل نہیں رہے ،وزارت اسلامی امور، دعوت اور ارشاد کے وزیر عبد اللطیف بن العزیز آل الشیخ نے ائمہ کی برطرفی کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ وزارت اپنے ما تحت کسی ملازم یا امام کو ملازمت سے نکالنا نہیں چاہتی ، ہم انہیں ان کے منصب کے تفاضوں سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی برطرفی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اخوان یا اس نظریہ کے حامی ہیں ، بلکہ یہ ان لوگوں کے خلاف وزارت کا باقاعدہ طریقہ کار ہے جو ہدایت پر عمل درآمد نہیں کرتے یا اس پر عمل درآمد میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں،ایسے لوگوں کو تیار کر لیا گیا ہے اور جو حالات کو پورا کرتے ہیں انہیں ان کی جگہ بھیج دیا جائے گا۔


































