
Turkey and United States flags together realtions textile cloth fabric texture
1915 میں ترک فوج کے ہاتھوں ہلاکتیں نسل کشی ہیں ، جوبائیڈن ،انقرہ میں امریکی سفیر کو طلب کرکے احتجاج،ترکی میں امریکی سفارتخانہ اور قونصل خانے بند
امریکا آئینہ دیکھے اورسیاسی مقاصد کیلئے آرمینیا کے معاملے کو استعمال کرنا بند کرے، ترک صدر،دوطرفہ تعلقات کوایسا گھات لگا جس کا علاج مشکل ہوگا،ترکی
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا نے سلطنت عثمانیہ میں ترک فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کونسل کشی قرار دے کر نیا تنازع کھڑا کردیا ،امریکی صدر جوبائیڈن کے فیصلے نے ترکی کو سخت مشتعل کردیاہے، آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کی برسی پرجاری بیان میں امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ 1915 میں ترک فوج کے ہاتھوں ہلاکتیں نسل کشی کے مترادف ہیں ،جوبائیڈن آرمینائی باشندوں کے قتل کو نسل کشی قراردینے والے پہلے امریکی صدربن گئے، جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام کی زندگیوں کو یاد رکھتے ہیں جو دورِ عثمانیہ میں آرمینیائی نسل کشی کے دوران ہلاک ہوئے اور اس طرح کے مظالم کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اپنے آپ سے دوبارہ وعدہ کرتے ہیں،امریکی صدر کے اس بیان کو آرمینیا اور اس کے تارکین وطن کے لیے ایک بہت بڑی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،انقرہ میں امریکی سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو طلب کرکے آگاہ کیا گیا کہ بائیڈن کے بیان سے تعلقات میں ایسا گھات آیا ہے جس کا علاج مشکل ہوگا، صدر طیب ا ردوگان نے کہا کہ امریکا سیاسی مقاصد اوراندرونی معاملات میں مداخلت کیلئے آرمینیا کے معاملے کو استعمال کررہا ہے،انہوں نے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غلط قدم سے تعلقات میں فرق پڑے گا اور امریکا کو مشورہ ہے کہ آئینہ دیکھیں جبکہ ترکی اس وقت بھی آرمینیا کے ساتھ اچھے ہمسایوں کے تعلقات کی کوشش کر رہا ہے،ترک عوام کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لئے ترکی میں موجود امریکا کے تمام سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی سفارتی مقامات کے اردگرد ترکی کی خصوصی سفارتی پولیس کے گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے،پہلی عالمی جنگ کے دوران 1915 میں آرمینیا کے ہزاروں باشندے قتل ہوئے تھے، آرمینیا اسے نسل کشی اور عثمانی فوج کو ذمہ دار قرار دیتا ہے


































