
حدیث یوم
اپنی گناہ سے ڈرنا چاہیے
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
ترجمہ:
اے انسان! تجھے کس چیز نے گناہ پر دلیر کر دیا ہے؟ اور کس چیز نے تجھے اپنے پروردگار کے بارے میں دھوکا دیا ہے؟ اور کس چیز نے تجھے اپنی تباہی پر مطمئن بنا دیا ہے؟ کیا تیرے مرض کیلئے شفا اور تیرے خواب (غفلت) کیلئے بیداری نہیں ہے؟کیا تجھے اپنے پر اتنا بھی رحم نہیں آتا جتنا دوسروں پر ترس کھاتا ہے؟ بسا اوقات تو جلتی دھوپ میں کسی کو دیکھتا ہے تو اس پر سایہ کر دیتا ہے یا کسی کو درد و کرب میں مبتلا پاتا ہے تو اس پر شفقت کی بنا پر تیرے آنسو نکل پڑتے ہیں، مگر خود اپنے روگ پر کس نے تجھے صبر دلایا ہے؟ اور کس نے تجھے اپنی مصیبتوں پر توانا کر دیا ہے اور خود اپنے اوپر رونے سے تسلی دے دی ہے؟ حالانکہ سب جانوں سے تجھے اپنی جان عزیز ہے اور کیونکر عذاب الٰہی کے رات ہی کو ڈیرے ڈال دینے کا خطرہ تجھے بیدار نہیں رکھتا؟ حالانکہ تو اپنے گناہوں کی بدولت اس کے قہر و تسلط کی راہ میں پڑا ہوا ہے۔


































