Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

اس دور کرونا میں عالمی یوم القدس


تحریر: ثاقب اکبر
کرونا کے دور میں لگتا ہے کہ بہت کچھ بدل گیا ہے اور شاید بہت کچھ بدل جائے، کیونکہ پیش گوئیاں تو یہ ہو رہی ہیں کہ کرونا کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔ حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہوگئیں اور روابط کے انداز بدل گئے۔ ممکن ہے قوموں کے باہمی تعلقات میں بہت بڑی تبدیلی آجائے، کیونکہ اس دورِ بلا میں دوست اور دشمن ایک مرتبہ پھر آزمائے گئے ہیں۔ آزمائش کی بھٹی سے گزرنے والے کئی دوست اب دوست نہیں رہے، کم ازکم ان کے چہرے سے نقاب اتر گئی ہے۔ دنیا بھر کے ادارے، ملک، حکومتیں، تنظیمیں اور افراد ارتباط کی نئی طرح ڈال رہے ہیں۔ یہ تو اچھا ہوا کہ اس دور میں انٹرنیٹ موجود تھا، اب لوگ یہ جان گئے ہیں کہ انٹرنیٹ انسانوں کے لیے ہوا اور پانی کی طرح ناگزیر ہوگیا ہے۔ دنیا ڈیجیٹل ہوگئی ہے۔ ایسے میں کیونکر ممکن تھا کہ عالمی یوم القدس کی فعالیتیں اس سے متاثر نہ ہوتیں۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ مسجدوں میں عبادت اور نماز کے معمولات متاثر ہوئے ہیں، بازار اور دربار متاثر ہوئے ہیں۔ رفت و آمد کے سلسلے کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں۔ ریلیاں اور جلوس نکالنے والے اپنے آپ کو بڑی حد تک حالات کے رحم و کرم پر پاتے ہیں۔
دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ طاغوتی اور استبدادی طاقتیں اس دور میں نئے سے نئے جال بن رہی ہیں۔ دجالی قوتیں دجل و فریب کے نئے ہتھکنڈے آزما رہی ہیں۔ کرونا وائرس انسان ساختہ ہے یا انسانوں کے کرتوتوں کا نتیجہ، شیطانی طاقتیں اسے اور اس جیسے ہتھیاروں کو آزمانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ دنیا کے بعض راہنماﺅں کا کہنا ہے کہ اب جنگ بارود اور کیمیائی ہتھیاروں کے بجائے بیالوجیکل شکل اختیار کر جائے گی۔ دشمنوں کے خلاف کرونا وائرس جیسے ہتھیار آزمائے جائیں گے اور سستے داموں مخالف قوموں کو نابود کیا جاسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض شیطانی قوتوں کی اصل ماہیت تبدیل ہونے کو نہیں آرہی۔ امریکا اپنے مقابل ہر قوت کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہے۔ صدر ٹرمپ آئے دن چین کو للکارتے رہتے ہیں۔ ابھی کل(15مئی 2020ءکو) انہوں نے چین سے قطع تعلقات کی دھمکی دی ہے۔ وہ سعودی عرب پر مزید دباﺅ بڑھا رہے ہیں، تاکہ اس کی باقی ماندہ دولت کو کسی طرح سے لوٹ سکیں۔ یہی نہیں انہوں نے تو اپنے دوست ممالک کی طرف آنے والے کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے استعمال ہونے والے طبی وسائل کو بھی لوٹ لیا ہے۔
اسرائیل بھی فلسطینیوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے مزید اقدامات پر تلا ہوا ہے۔ وہ علاقے جنھیں خود اسرائیلی قیادت ماضی میں فلسطینی علاقوں کے طور پر قبول کرچکی ہے، انہیں بھی ہڑپ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ فلسطین کے مغربی کنارے کو بھی اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ غزہ پر وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ منافقوں کے چہرے بھی آشکار ہو رہے ہیں، گویا جنگ کے دو فریق کھلتے چلے جا رہے ہیں۔ فلسطینی عوام اسرائیلی ماہیت سے پہلے ہی آگاہ ہیں، مزید آگاہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ امن سے رہنے کا خواب دیکھنے والے محمود عباس بھی ان دنوں اس کے خلاف بولنے لگے ہیں۔ ایسے میں دنیا میں آزادی پسند اور روح حریت رکھنے والے لوگ عالمی یوم القدس منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ دنیا بھر میں ایک دن کو یوم القدس کے طور پر منانے کے بجائے 22 رمضان المبارک سے 28 رمضان المبارک تک ہفتہ¿ قدس کے طور پر منانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔
اس سلسلے میں انٹرنیٹ کے ذریعے عالمی اور علاقائی کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ دنیا بھر کی تنظیمیں اور ادارے اپنے اپنے انداز سے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ ریلیوں کا پہلا سا عوامی انداز تو کرونا کی وبا کے باعث ممکن نہیں، لیکن پھر بھی کچھ نئے انداز سے پوری دنیا میں فلسطین کی مقدس سرزمین کی آزادی کے لیے مظاہروں اور ریلیوں کے پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں۔ اگر ہم سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈال سکیں تو دیکھیں گے کہ اس سال مظلوم فلسطینیوں کی آواز پہلے سے زیادہ لوگوں تک پہنچ رہی ہے، لوگ اسرائیل کی ماہیت کو پہلے سے زیادہ جان رہے ہیں، اس کے سرپرستوں کی سنگدلی سے پہلے سے زیادہ آگاہ ہو رہے ہیں اور آزادی¿ قدس کی آواز پہلے سے زیادہ بلند بانگ ہوتی جا رہی ہے۔ لکھنے والے مقالے لکھ رہے ہیں، شاعر شعر کہہ رہے ہیں، آرٹسٹ اپنے انداز سے ہنر دکھا رہے ہیں۔
قائدین اور اہل دانش اپنے بیانات نشر کر رہے ہیں، پہلے تو ریلیاں محدود علاقے تک ہوتی تھیں، لیکن اب انٹرنیٹ نے ہر شخص کی آواز کو عالمی بنا دیا ہے، ہر کسی کی کوشش ہر کسی کی دسترس میں ہے۔ ایسے میں ظلم و ستم کے پجاری یقیناً رسوا سے رسوا تر ہوتے چلے جائیں گے۔ حقائق آشکار ہوں گے، عوام بیدار ہوں گے، رائے عامہ ہموار ہوگی اور آخرکار آزادی¿ فلسطین کا سورج طلوع ہوگا، اسرائیل کی ناجائز ریاست ختم ہو کر رہے گی اور یہ ریاست جن استعماری قوتوں کی اس خطے میں آماجگاہ کا سبب بنی ہوئی ہے، وہ اپنے پَر پرزے سمیٹ کر اپنی سرحدوں کا رخ کریں گی۔ ان شائ اللہ صبح نور کی امید پوری ہو کر رہے گی۔ یہی امید قرآن حکیم نے ہمارے دلوں میں روشن کر رکھی ہے جو فرماتا ہے:وہ ذات وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، اگرچہ مشرکوں کو یہ ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔” بقول اقبال:
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular