
عارف کامل آیت اللہ العظمی جوادی آملی.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ نورانی ہے:
"اَعدی عَدوّکَ نَفسُک الّتی بَین جَنبَیک”(عدۃ الداعی، صفحہ ۳۱۴)
یعنی "تمہارا سب سے بڑا دشمن وہ نفس ہے جو تمہارے سینے میں چھپا ہے۔”
یہ خواہشاتِ نفسانی، تکبر اور بری خواہشات ہی انسان کے حقیقی اور بدترین دشمن ہیں۔
ظاہر ہے کہ بیرونی دشمن تو زمین، دولت اور معدنیات کے طلب گار ہوتے ہیں، لیکن دشمنِ درونی (نفس) کا نشانہ "دین” ہوتا ہے۔
اور اگر وہ دین چھیننے میں کامیاب ہو گیا، تو پھر وہ آبرو کا خواہاں ہوتا ہے، تاکہ انسان کو اس کی ہستی اور وقار سے بھی محروم کر دے۔
قرآنِ کریم ہمیں حضرت آدمؑ کے واقعے کے ذریعے ابلیس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے:
"لِیُبدِیَ لَهُما مَا وُورِیَ عَنهُما مِن سَوآتِهما”• سورۂ اعراف، آیت ۲۰
(تاکہ وہ ان دونوں کی وہ شرمگاہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں، انہیں دکھا دے)۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ ابلیس کی کوشش کا منطقی انجام انسان کی آبروریزی ہے۔
وہ محض ایمان چھین کر خاموش نہیں ہو جاتا، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان بے عزت، بے حیثیت اور رسوا ہو جائے – خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اس لیے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔
ابلیس کا اصل ہدف "حیثیت کا سلب” ہے – یعنی انسان کو اس کی دینی اور سماجی قدر سے محروم کرنا۔
اسی وجہ سے وہ "اَعدی عدو” (سب سے بڑا دشمن) ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ قرآن و عترت کے طفیل ہمیں شیطانِ درونی (نفس) اور بیرونی استکبار و صہیونیت کے شر سے محفوظ رکھے۔


































