میاں بیوی ایک دوسرے کو اس بات کا طعنہ نہیں دے سکتے کہ میں تم سے بہتر ہوں یا میرے گھر والے تمہارے گھر والوں کی نسبت بہتر ہیں یا اچھے ہیں اور تمہارے گھر والے برے ہیں۔
کس چیز میں بہتر ہو، تمہارا باپ کس بات میں زیادہ بہتر ہے؟ کیا تمہارے پاس زیادہ حسن ہے یا تمہارے گھر والے زیادہ امیر ہیں؟ اور تمہارے میاں یا تمہاری بیوی کے گھر والے غریب ہیں فقیر ہیں؟ یہ سب غیر معقول باتیں ہیں۔
کیونکہ ان سب باتوں کو اسلام قبول نہیں کرتا ہاں اگر تم تقوی میں افضل ہو تو اس معاملے میں تو اصلا ًتم کہہ ہی نہیں سکتے کہ میں متقی زیادہ ہوں، کیونکہ جو متقی ہوتا ہے وہ خود کو باتقوی نہیں کہتا پھرتا۔
جو یہ کہے کہ میں تقوی میں تم سے افضل ہوں تو یہ خود تقوی میں تنزلی کی علامت ہے، پس ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ بنا کر رکھیں جو مقدر اور نصیب میں آیا ہے اسے غنیمت شمار کریں، عطیہ الہی سمجھیں تاکہ خدا اپنی برکات میں اضافہ کرے۔
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- میاں بیوی ایک دوسرے کو کس بات کا طعنہ دیتے…
میاں بیوی ایک دوسرے کو کس بات کا طعنہ دیتے ہیں؟
-
Ilyas - جولائی 16, 2020
- خواتین کا نوائے اسلام
- 3
- 0 minute read


































