
کابل: طالبان نے مغربی ممالک سے تعلیم یافتہ اور ہنر مند افغانوں کی امیگریشن روکنے کا مطالبہ کردیا۔ طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہاکہ دنیا کو یہ باورکرنا چاہیے کہ وہ اس تاثر کے تحت افغانوں کے لیے امیگریشن نہ کھولیں کہ افغانستان میں ان کی جان کوخطرہ ہے۔ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افغانوں کو امیگریشن دینے کے عمل سے افغانستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ واضح رہے کہ طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سے امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افغانوں کو اپنے ملکوں میں بسا چکے ہیں۔ طالبان کے قائم مقام وزیر اطلاعات و ثقافت خیر اللہ خیرخواہ نے الزام لگایا تھا کہ کابل یونیورسٹی کے لیکچررز کو بیرون ملک سے دعوت نامے موصول ہو رہے ہیں کہ وہ ان کے ملک میں چلے آئیں۔ کابل یونیورسٹی کے نصف سے زیادہ لیکچررز، تقریباً 400 افراد، سیکیورٹی خدشات، طالبان کی پابندیوں اور دیگر سماجی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے افغانستان سے ہجرت کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے مطابق لاکھوں افغان مہاجرین، پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے طور پر دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہیں، جس نے شام، وینزویلا اور یوکرین کے بعد افغانستان کو دنیا میں چوتھا ایسا ملک بنا دیا ہے جہاں سے بڑی تعداد میں پناہ گزیں آتے ہیں.


































