
اسرائیل نے غرب الاردن کو ضم کیا تو 1967کی سرحدوں پر مشتمل آزاد ریاست کا اعلان کردیا جائے گا جس کا دارلحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا، محمد اشتیہ
انضمام ہمارے وجودکیلئے خطرہ ہے، اس کا مطلب فلسطینی ریاست کو مٹانا ہوگا ، دنیا کو بین الاقوامی قانون اور انضمام کے درمیان انتخاب کرنا ہے،فلسطینی وزیراعظم
رام اللہ (نیوزڈیسک )فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غرب الاردن کو ضم کیا تو 1967کی سرحدوں پر مشتمل آزاد ریاست کا اعلان کردیا جائے گا جس کا دارلحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا،انہوں نے کہاکہ پی ایل او نے اسرائیل کو 1967کی سرحدوں کے مطابق تسلیم کیا تھالیکن وہ غرب الاردن اور 1967کی سرحدوں کو ہڑپنا چاہتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو فلسطین اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے لے گا اور قبضہ کا شمار 1948سے کیا جائے گا،اور اس سے فلسطینیوں کے سرکاری مقام میں ایک بنیادی تبدیلی ہوگی،انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل نے فلسطین کے زیر قبضہ علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ جاری رکھا تو تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کریں گے اور عالمی سطح پر اس کو تسلیم کرانے کے لیے زور دیں گے
ہم زمین پر کہیں بھی اس وابستگی کے ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں، اگر اسرائیل نے انضمام کیا تو یہ ہمارے لئے الگ دن ہوگا،انضمام ہمارے وجودکیلئے خطرہ ہے۔ فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے چار ستون ہیں: غزہ ، یروشلم ، مغربی کنارے کے علاقے اے بی اور سی ، غرب الاردن لہذا انضمام کا مطلب فلسطینی ریاست کو مٹانا ہوگا، انہوں نے کہا کہ دنیا کو بین الاقوامی قانون اور انضمام کے درمیان انتخاب کرنا ہے، مجھے یقین ہے کہ عالمی برادری بین الاقوامی قانون کا انتخاب کرے گی،انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے امن منصوبے کے متبادل منصوبہ امریکا،روس،سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ سمیت چاروں فریقوں کو بھیج دیا ہے۔


































