خطہ ایک اور جنگ کا متحمل نہیں،سعودی ایران کشیدگی کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں،طالبان، امریکیوں اور افغان حکومت کی امن قائم کرنے میں کامیابی کے لیے دعاگو ہیں
افغانستان میں امن قائم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، گاندھی کو قتل کرنے والوں کا برسرِاقتدار آنا بھارت اور اس کے پڑوسیوں کے لیے ایک المیہ ہے
اسلام آباد (نیوزڈیسک) جرمن ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان نے کہاکہ پاکستان مشکل خطے میں واقع ہے، اقدامات کو متوازن رکھنے کی ضرورت رہتی ہے، سعودی عرب ایک اچھا دوست ہے، ایران سے بھی اچھے تعلقات رہے ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ مشرق وسطیٰ کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا، وزیراعظم نے کہا افغانستان میں امن قائم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، طالبان، امریکیوں اور افغان حکومت کی امن قائم کرنے میں کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ بھارت پر شدت پسند نظریئے ہندوتوا کا قبضہ ہے، آر ایس ایس کی بنیاد 1925 میں جرمن نازیوں سے متاثر ہوکر رکھی گئی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کا یہ نظریہ مسلمانوں اور مسیحوں سمیت تمام اقلیتوں سے نفرت پر مبنی ہے، مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والوں کا برسرِاقتدار آنا بھارت اور اس کے پڑوسیوں کے لیے ایک المیہ ہے، وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پانچ ماہ سے محاصرے میں ہے، بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا، حالانکہ اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے مطابق بھی یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ مشرق وسطیٰ کیلئے تباہ…
ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ مشرق وسطیٰ کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا(وزیراعظم عمران خان)
-
Ilyas - جنوری 24, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 25
- 0 minute read


































