
کوسوو: سربیا اور کوسوو کے درمیان جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔ سربین فوج سرحدوں کے قریب پہنچ گئی۔کوسوو میں سربین شہریوں کے اکثریتی قصبے زویکن میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے کشیدگی پھیلی۔ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سربوں کےگروپ نے نومنتخب مئیر کو دفتر میں داخلے سے روکنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئےآنسو گیس پھینکی ۔ مظاہرین نے کئی کاروں کو آگ لگادی۔ سربین وزیر دفاع میلوس ووسیوچ نے واقعات کو سربین کمیونٹی کیخلاف دہشت گردی قرار دیا اور فوج کو کوسوو کی سرحد کی جانب پیش قدمی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ کوسوو کی صدر وجوسا عثمانی نے آئینی فرائض کی انجام دہی اور شہریوں کےدفاع کیلئے پولیس کارروائی کوجائز قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سربین صدرکے مجرمانہ گروپوں کے غیر قانونی ڈھانچے کیخلاف کارروائیاں درست ہیں۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی نے کوسوو میں پُرتشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے مطالبہ
کوسوو پرتشدد کارروائیاں روکے، ہم کوسوو حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں جو کشیدگی اور عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔


































