
بڑی طاقتیں انسانوں کے خلاف علم و سائنس کا غلط استعمال کر رہی ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی کو ناانصافیوں اور اقوام پر مرضی مسلط کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے
کورونا وائرس کے باعث طبی سامان ہتھیانا،دکانیں خالی کردینا، ٹوائلٹ پیپر کیلئے لڑائی،بزرگ بیماروں پر جوانوں کو ترجیح یہ سب مغربی ثقافت و تمدن کی دین ہے
تہران (نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کورونا وائرس کی وبا کودنیا بھرکی حکومتوں اور اقوام عالم کے لئے ایک امتحان قراردیا اورکہا کہ در حقیقت اس حادثے میں حکومتوں اور قوموں دونوں کا امتحان ہے البتہ ایران کے عوام اس امتحان میں سربلند اور سرخرو رہے ہیں،لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دل کھول کر تعاون کیا یہ حقائق ایرانی عوام میں گہری اسلامی ثقافت و تعلیمات کا پتہ دیتے ہیں جبکہ اس کے برخلاف مغربی تہذیب و تمدن نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا، فرزند رسول امام مہدی علیہ السلام کے یوم ولادت با سعادت کے موقع پر اپنے براہ راست خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ وبا کے دوران جو کچھ امریکا اور مغرب میں پیش آیا، اْس میں سے کچھ کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا اور کچھ کو نہیں دکھایا گیا وہ سب مغربی تہذیب و تمدن کا نتیجہ ہے، ایک حکومت کسی دوسری حکومت اور قوم کے ذریعے خریدے گئے ماسک و گلوز کو زبردستی چھین لے، لوگ چند گھنٹوں کے اندر پوری دکان خالی کر دیں اور قلت کے خوف سے زیادہ سے زیادہ سامان خرید کر گھروں میں اسٹاک کر لیں، ٹوائلٹ پیپر کیلئے ایک دوسرے کی جان لینے کو تیار ہوجائیں یا پھر علاج کے دوران بزرگوں کو نظر انداز کر کے کم عمر بیماروں کاعلاج کریں، یہ سب مغربی ثقافت و تمدن کی دین ہے، انہوں نے کہا کہ ابھی چند روز قبل ہی ایک مغربی ملک کے سینیٹر نے کہا تھا کہ مغرب ایک زندہ وحشی ہے، لیکن جب ہم کہتے ہیں مغرب میں وحشی روح پائی جاتی ہے اور ان کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں تو بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں، مغربی حقیقت و ماہیت کے اندر ایک وحشی پن کا عنصر پایا جاتا ہے جو انکے مہذب ظاہر کے ساتھ سازگار نہیں، انہوں نے کہاکہ کورونا انسانیت کے لئے بڑی مشکل ہے لیکن ماضی کی مشکلات کے مقابلے میں یہ بہت معمولی مسئلہ ہے، 32سال قبل صدام کے طیاروں نے ایران اور خود اپنے ملک کے اند رآبادیوں پر کیمیکل بم گرا کر ہزاروں افراد کو موت کی نیند سلا دیا تھا اور اس وقت بڑی طاقتوں نے صدام کا ساتھ دیا تھا اور انہی بڑی طاقتوں نے یہ کیمیائی ہتھیار صدام کو دئے تھے اور آج تک کسی سے کوئی حساب اور جواب نہیں لیا گیا، دو عالمی جنگوں میں لاکھوں افراد مارے گئے، ویتنام کی جنگ میں بھی انسانوں کا قتل عام ہو ا، عراق،افغانستان اور دوسری جارحیتوں میں لاکھوں افراد جان سے گئے، انہوں نے خبردار کیا کہ کورونا کا مسئلہ ہمیں دشمنوں اور سامراج کی سازشوں سے غافل نہ کر دے، سامراج کی دشمنی اسلامی جمہوری نظام سے ہے سامراج اسے ہضم نہیں کر پا رہا ہے، ولی امر مسلمین نے کہاکہ بشریت کمیونیزم سے لے کرمغرب کی لیبرل ڈیموکریسی تک کے مختلف مکاتب فکر اور نظریات کا تجربہ کر چکی ہے لیکن اسکے باوجود سکون و اطمینان کا احساس اس کے اندر نہیں پایا جا رہا ہے، انسانیت اخلاقی برائیوں، گناہوں، نا انصافیوں اور غیر معمولی طبقاتی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے، آج بڑی طاقتیں انسانوں کے خلاف علم و سائنس کا غلط استعمال کر رہی ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی کو ناانصافیوں اور اقوام پر مرضی مسلط کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، انسانی عقل وخرد دنیا کی بہتسی مشکلات کو حل کر سکتی ہے لیکن بعض گرہیں اور مشکلات ایسی ہیں جو صرف عقل سے حل نہیں ہو سکتیں،اس قسم کی مشکلات کے حل کیلئے ایک الہی طاقت کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت بقیتہ اللہ الاعظم کی عظیم ذمہ داری عدل و انصاف کا قیام ہے، انسانیت جس عدل و انصاف کی منتظر ہے وہ امام مہدی (عج) ہی قائم کریں گے، آج انسان کو ہر دور کی نسبت ایک منجی کی ضرورت کا زیادہ احساس ہو گیا ہے، تاریخ انسانیت میں ایسا دور بہت ہی کم آیا ہے جب پوری دنیا میں انسانوں کو بیک وقت کسی ایک نجات دہندہ کی ضرورت کا احساس ہوا ہو اور آج اس منجی کی ضرورت کا احساس کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ہر انسان کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں لیکن اسے مایوس اور نا امید نہیں ہونا چاہئے۔


































