
لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میرا فلسفہ نہیں، ہر طرح کے اشتعال کے باوجود ہم ہمیشہ پرامن رہے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان تحقیقات کے لیے اپنی سربراہی میں آزاد پینل تشکیل دیں۔ ویڈیو خطاب میں عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے عدلیہ پر ڈنڈوں سے حملہ کیا اور آزاد عدلیہ کو تباہ کیا، میں عدلیہ کا شکر گزار ہوں کہ جعلی کیسز میں جیل جانے سے بچایا۔انہوں نےکہا کہ مجھے گولی لگی تب کیوں توڑ پھوڑ نہیں ہوئی؟ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میرا فلسفہ نہیں، مجھ پر حملے میں ملوث تمام فنکار اور اداکاروں کا علم ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ 25 مئی یاد رہے گی جب حکومت اور ہینڈلرز نے پولیس پر دباؤ ڈالا، 26 مئی کو دھرنا دینا تھا میں نے دھرنا ختم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا تھا لوگوں میں غصہ ہے انتشار پھیل جائے گا، اس لیے دھرنا ختم کیا، ہمارے دور میں اپوزیشن نے 3 بار دھرنے دیے ایک ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔عمران خان نے کہا کہ میرے گھر پر حملہ ہوا، اس پر مجھے بہت غصہ تھا، گھر پر اکیلی خاتون تھیں ان کو اس پر بھی شرم نہیں آئی۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ میں آرام سے بیٹھے تھے شیشے توڑ کر حملہ کیا گیا، ایسے حملہ کیا گیا جیسے میں پاکستان کا بڑا دہشت گرد ہوں، دنیا نے دیکھا کہ مجھے کس طرح پکڑ کر لےجایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر زندگی بھر میں ایک کیس نہیں تھا، ایک سال میں کئی کیس کردیے، مجھ پر ایک دن میں 15 کریمنل کیس بنائے گئے۔عمران خان نے کہا کہ کل سے مجھےخبریں ملنا شروع ہوئیں، اس سے پہلے پتا نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے، انہوں نے مجھے ساری دنیا کے سامنے ذلیل کیا۔عمران خان نے کہا کہ جب سپریم کورٹ پہنچا تو پتا چلا بہت انتشار ہوا توڑ پھوڑ ہوئی ہے، جو بھی سرکاری بلڈنگ جلائی گئی تحقیقات ہوں کہ اس کے پیچھے کون تھا۔ان کا کہا کہ جب کراچی میں تنظیم بنانے لگے تو کہا گیا عسکری ونگ بنانا پڑے گا، میں نے سمجھایا مسلح لوگوں کو رکھنے سے پارٹی کی فطرت بدل جاتی ہے، میں نے کہا کراچی میں پارٹی نہ بڑھے عسکری ونگ نہیں رکھوں گا۔


































