
اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امریکا کو جب پاکستان کی ضرورت ہوئی استعمال کیا جب نہ ہوئی تو چھوڑ دیا۔ امریکا افغان صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا رہا لیکن ہم امریکا کے اتحادی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ پر تھے۔ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا کے افغانستان میں مقاصد واضح نہیں تھے، اسامہ بن لادن کے مارے جانےکے بعد ان کا مشن ختم ہوجانا چاہیے تھا۔امریکیوں نے افغانستان کی تاریخ پڑھی ہی نہیں افغان عوام آزاد خیال لوگ ہیں، وہ بیرونی حکمران کونہیں مانتے، جو لوگ افغانوں کی تاریخ سے واقف ہیں وہ یہ اقدام نہ کرتے جو امریکا نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے آتے ہی دنیا نے ان کے اثاثے منجمد کردیئے۔ مغربی قوتوں نے طالبان حکومت کو سزا کے طور پر بینک کھاتے منجمد کیے، افغانستان میں دہائیوں مشکلات اور چیلنجز رہیں، اب مزید غلطیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد بھارت کیساتھ تعلقات معمول پرلانا ترجیح تھی، مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے، کیونکہ بھارت نے کشمیریوں کو حق رائے دہی سے محروم کررکھا ہے، بھارت اپنی ہی لگائی ہوئی نفرت کی آگ میں جل رہاہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 22سال کی جدوجہد کرپشن سے نجات کے لیے کی، میرا یقین ہے کہ ملک کرپشن کی وجہ سےغریب ہوتا ہے، جو ملک طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہ لاسکے وہ تباہ ہوتے ہیں، میری پارٹی کا منشور قانون کی حکمرانی اور فلاحی ریاست کا قیام ہے، میری اولین ترجیح اپنے لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے۔


































