
واشنگٹن: امریکی عسکری اور انٹیلی جنس حکام نے ایران سے جنگ کے خاتمے پر مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی میں کمی اور فوجی اڈے زیرزمین منتقل کرنے پر غور شروع کردیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی کے نئے ڈھانچے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام خطے میں اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے کے مختلف منصوبوں پر مشاورت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکی حکام خطے میں فوجی اڈوں اور انٹیلی جنس تنصیبات کی موجودہ تعداد اور ضرورت کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
نائن الیون حملوں کے بعد امریکا نے عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں کارروائیوں کے لیے مشرق وسطیٰ میں فوجی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بے پناہ وسعت دی تھی. تاہم ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے امریکی انفراسٹرکچر کی خامیوں اور کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔


































