امریکا اپنے دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا کہ قاسم سلیمانی مستقبل قریب میں کوئی خطرہ تھے،وہ حملے کیلئے مناسب ثبوت فراہم کرنے میں بھی ناکام رہا
اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی گئی، پہلی بار کسی حکومت نے تیسرے ملک میں حکومتی عہدیدار پر حملے کو اپنا دفاعی اقدام قرار دیا،آزاد تفتیشی اہلکار
جنیوا(نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی آزاد تفتیشی اہلکارایگنس کا لمارڈ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قافلے پر امریکا کے ڈرون حملے کو غیرقانونی عمل قرار دے دیا،ایک انٹرویو میں کالمارڈ نے کہا کہ امریکا اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا کہ جنرل قاسم سلیمانی مستقبل قریب میں کوئی خطرہ تھے،وہ حملے کیلئے مناسب ثبوت فراہم کرنے میں بھی ناکام رہا، حملے میں اقوام متحدہ کے منشور کی بھی خلاف ورزی کی گئی،یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی حکومت نے اپنے دفاع کے حق کو، ایک تیسرے ملک میں حکومتی عہدیدار پر حملے کا جواز بنایا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی ڈرون حملوں کی بات کی جائے تو سلامتی کونسل غائب ہے اور عالمی برادری بڑی حدتک خاموش ہے ،انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ممالک کو فوجی ڈرون طیاروں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں جوابدہ بنایا جائے اور اس سلسلے میں قانون وضع کیا جائے،انہوں نے قاسم سلیمانی پر حملے سے متعلق رپورٹ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردی ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- قاسم سلیمانی پر امریکی حملہ غیرقانونی اور بلاجواز تھا (انسانی…
قاسم سلیمانی پر امریکی حملہ غیرقانونی اور بلاجواز تھا (انسانی حقو ق کونسل)
-
Ilyas - جولائی 9, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 15
- 0 minute read


































