
نیویارک: ایران نے اقوام متحدہ میں امریکہ پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے پر اسے جنگی جرم قرار دے دیا۔ ایرانی سفیر نے سلامتی کونسل سے امریکی حملوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں کہا کیا گیا ہے کہ آٹھ سے سولہ جولائی کے درمیان امریکہ نے ایران کے مختلف جنوبی علاقوں، ساحلی شہروں اور خلیج فارس کے نزدیک متعدد حملے کیے۔ ایران کے مطابق ان حملوں میں بندرگاہوں، مواصلاتی نظام، نقل و حمل کے ڈھانچے، ریڈار تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ ایرانی مندوب نے کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور انہیں جنگی جرائم قرار دیا جانا چاہیے۔ خط میں کہا کیا گیا کہ حالیہ حملوں میں چالیس سے زائد ایرانی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں عام شہری، امدادی کارکن، فائر فائٹرز، پارک رینجرز اور ماہی گیر بھی شامل ہیں۔
ایران نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی حملوں کے خلاف اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور اس معاملے پر مؤثر کارروائی کرے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔


































