
تحریر: محمد کاظم انبارلوئی
ایران اور عمان میں جاپان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں جاپان کے سابق نمائندے Mitsugu Saito نے حال ہی میں ایران کے خلاف حالیہ امریکی جارحیت کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے "امریکہ کو ایران سے کیوں شکست ہوئی”۔ اس کتاب میں اس نے دو موضوعات پر توجہ مرکوز کی ہے:
الف- غیر متناسب جنگ میں ایرانی حکمت عملی
ب- امریکی فوج میں خالص ٹیکنالوجی کا خاتمہ
وہ کہتا ہے کہ ایران نے جنگ کو شطرنج کے ماہر کھلاڑی کی طرح اسٹریٹجک صبر، تاریخی شناخت کی گہرائی اور فیصلہ سازی میں ایک مختلف ترتیب اور نظم کے ساتھ منظم کیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ امریکہ کے اہم مقاصد میں شامل تھا لیکن آج وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے پر تہران کے ساتھ سودے بازی کر رہا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ ایران کا پلڑا بھاری ہے اور پہل ایران کے ہاتھ میں ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کو امریکہ کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
ایک تجربہ کار سفارت کار کے طور پر جو Mitsugu Saito نے وہ لکھا ہے جو بین الاقوامی تعلقات کے محققین کے لیے اہم ہے۔ لیکن عسکری ماہرین کی رائے مختلف ہے۔ فوجی حکمت عملی کے ماہرین کے لیے کئی اہم سوالات ہیں۔
1) ایران پر امریکی اور اسرائیلی فوجی حملے میں ہمیں بڑے پیمانے پر نہ پھٹنے والے ہتھیاروں کا سامنا کیوں کرنا پڑا ہے؟ ایرانی فوجی حکام وقتاً فوقتاً اعلان کرتے ہیں کہ اسنے کئی نہ پھٹنے والے بموں وغیرہ کو بے اثر کیا ہے اور ابھی تک کیا جا رہا ہے؟
2) دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت کے بحری جہاز ایران سے دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر کیوں پھنسے ہوئے ہیں اور ایرانی پانیوں کے قریب جانے کی ہمت کیوں نہیں کرتے؟
3) مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں کو ایرانیوں نے کیسے تباہ کیا۔ یہاں تک کہ آج ان اڈوں کو خالی کرنے اور فوجی سازوسامان، خاص طور پر AWACS، ٹینکروں کو ایندھن بھرنے اور یہاں تک کہ جدید طیاروں کو منتقل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔
4) امریکیوں نے ہمیشہ کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے F35 طیاروں کا آسمان پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کے F35 کو زمین پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس لیے اب انہیں زمین پر رکھنے کا سوچ رہے ہیں۔
5) امریکی میڈیا نے انکشاف کیا کہ امریکی فوج کو اب گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے، جس نے اپنے 80 فیصد اہم میزائل انٹرسیپٹرز استعمال کر لیے ہیں لیکن ایران، جو 2000 سے زیادہ بیلسٹک میزائل فائر کر چکا ہے،ہر روز نئے میزائلوں کی نقاب کشائی کی بات کر رہا ہے۔
سی بی ایس نیوز کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ میں اپنے تقریباً تمام طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور درست رہنمائی کرنے والے میزائل استعمال کیے ہیں۔ چینیوں کو صرف مصنوعی ذہانت کو ایران امریکہ جنگ کا ڈیٹا دینے اور سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ وہ کتنے گھنٹے تائیوان پر قبضہ کر سکتے ہیں اور اس مسئلے پر امریکیوں کے ساتھ اپنی فوجی کشمکش ختم کر سکتے ہیں۔ روسی فوجی حکمت عملی کے ماہرین کے ان سوالات کے جوابات بھی بے فائدہ نہیں ہیں۔ ان سوالات کا صحیح جواب دے کر، وہ خود کو یوکرین میں نیٹو کے ساتھ لڑائی کی جنگ سے بچا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ فوجی لیوریج کے علاوہ دیگر لیورج استعمال کریں لیکن "نہ پھٹنے والے بم” کے بارے میں پہلے سوال کا جواب مصنوعی ذہانت اور فوجی مبصرین کی قدرتی ذہانت کی صلاحیتوں سے باہر لگتا ہے۔
امریکی دہشت گردوں کے استعمال شدہ وحشیانہ بموں میں نہ پھٹنے والے بموں کی کثرت کا تعلق ان کی تیاری کے انتظامات میں تکنیکی خرابیوں یا لاپرواہی سے ہے یا انکے نہ پھٹنے کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں، بظاہر فنی خرابی ہونے کا امکان نہیں ہے۔ وہ طاقت جس نے طبس پر حملے میں "ہوا” اور "ریت” کے ذریعے امریکی فوجی سازوسامان کو تباہ کیا، وہ طاقت جس نے طبس II میں اصفہان میں امریکی فوجی مہم جوئی کو "پانی” اور "مٹی” کے زریعے توڑ دیا۔ وہی طاقت بعض پروجیکٹائل اور بموں کو موثر اور پھٹنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ اس طاقت اور غیبی ہاتھ کو دیکھا اور پرکھا جانا چاہیئے اور بلاشک و شبہ یہی ہاتھ جنگ کی تقدیر کا تعین کرنے کا باعث ہے۔


































