
تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب تک امریکا اپنے غیر ضروری مطالبات اور متضاد مؤقف سے دستبردار نہیں ہوگا حتمی معاہدہ ممکن نہیں ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ٹیلیفونک گفتگو میں عباس عراقچی نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثالثی کے ذریعے آگے بڑھائے جانیوالے مذاکراتی عمل کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکا اپنے غیر ضروری مطالبات اور متضاد مؤقف سے پیچھے ہٹے۔ عراقچی کے مطابق ایران اپنے قانونی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
سپریم لیڈر کے سینئر مشیر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک سال میں تیسری بار سفارت کاری سے دھوکا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں سخت شرائط اور بحری ناکہ بندی نے مذاکراتی عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن حقیقی طور پر مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بیان کے مطابق امریکہ کی پالیسی بار بار سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔


































