
واشنگٹن: امریکا نے متحدہ عرب امارات سے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسودہ قرارداد پیش نہ کرے جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کر دے۔کیونکہ واشنگٹن دونوں فریقوں کے درمیان ڈیل کی کوشش کررہا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں خطے میں امن کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، جیسے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد میں اضافے کو روکنے اور امن کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دونوں پر زور دیا کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو ایسے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے جس سے امن بحال ہو اور ایسے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کی جائے گی جن سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔برطانوی خبر رساں اداے رائیٹرز نے خبر دی ہے کہ اتوار کے روز متحدہ عرب امارات نے سلامتی کونسل کو ایک نوٹ بھیجا ہے کہ وہ اس قرارداد کے مسودے پر پیر کو رائے شماری نہیں کروائے گا۔ فریقین کے درمیان مثبت بات چیت کے پیش نظر ہم اب پی آر ایس ڈی کے مسودے پر کام کر رہے ہیں جو اتفاق رائے پیدا کرے گا۔


































