
نیویارک: اقوام متحدہ نے ایک بار پھر غزہ میں انسانی امداد پر تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جہاں مسلسل تشدد اور شدید سردی کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ غزہ میں خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان سمیت ہر قسم کی انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی ناگزیر ہے۔ دوجارک کے مطابق اقوام متحدہ کے امدادی شراکت دار بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ گاہوں کی شدید کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً تیرہ لاکھ افراد کو باعزت پناہ گاہوں کی فوری ضرورت ہے، جبکہ طوفانی بارشوں سے متاثرہ تقریباً تین ہزار پانچ سو خاندان سیلابی علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق امدادی سامان میں خیمے، بستر، گدے، کمبل اور بچوں کے لیے گرم کپڑے شامل ہیں، تاہم ضروریات اب بھی بہت زیادہ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ غزہ بھر میں اب بھی چھ لاکھ تیس ہزار سے زائد بچوں اور نوجوانوں کو سردیوں کے کپڑوں کی فوری مدد درکار ہے۔


































