
کیف : یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی اعلان کردہ چھتیس گھنٹے کی جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے۔روسی صدر پیوٹن نے آرتھوڈوکس کرسمس کے موقع پر گذشتہ روز یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ یوکرین بھی جنگ بندی پر عملدرآمد کرے گا۔ لیکن اس اعلان پر یوکرینی اور مغربی حکام نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ روس کا ایک خفیہ مقصد ہے۔ اور اس کا مقصد یوکرین کی پیش قدمی کو روکنا ہے۔ صدارتی مشیر نے کہا کہ عارضی جنگ بندی اسی وقت ممکن ہو گی جب روس یوکرین میں اپنے زیرقبضہ علاقے کو چھوڑ دے گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ روسی صدر اپنے فوجیوں کو آرام کی اجازت دے کر کچھ آکسیجن تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


































