Fri Oct 16, 2026

ایران سے جنگ کے باعث ہر امریکی گھرانے کو اوسطاً 2 ہزار ڈالر کا نقصان پہنچا، موڈیز ایران کا مطالبات کی منظوری تک امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان اسرائیل کا امریکا سے 12 جدید اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ امریکا میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ریکارڈ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف

روزانہ کی خبریں

ترک صدر کی اسماعیل ہنیہ سےملاقات، مکمل حمایت کی یقین دہانی

استنبول: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سے کئی گھنٹے طویل ملاقات کی اور انہیں مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور حماس کو 1920 کی ترک انقلابی افواج کے مترادف قراردیا۔ انہوں نے ملاقات کے دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کے ماحول میں غزہ پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت پر زوردیا۔ ملاقات سے دو روز قبل ترک صدر نے پارلیمنٹ سے خطاب میں حماس کا موازنہ 1920 کی ترک انقلابی افواج سے کیا تھا اور کہا تھا کہ حماس کا کردار بالکل وہی ہے جو ترکی کی قومی افواج نے جنگ آزادی کے دوران ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ بات کہنے کی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ موجودہ دور میں حق اور سچ کی حمایت ایک مشکل کام ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ دنیا اس بات کو سمجھ لے کہ ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزام کو بھی مسترد کردیا۔ اسماعیل ہنیہ نے ترک صدر کے جرات مندانہ بیان کا خیر مقدم کیا۔
تاہم اسرائیل کے فسطائی ذہن وزیرخارجہ اسرائیل کاٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس ملاقات پر اپنی جھنجلاہٹ کا اظہار کیا اور حماس پر زنا بالجبر، قتل اور لاشوں کی بے حرمتی کا الزام لگایا اور صدر اردوان کو اس ملاقات پر برا بھلا کہا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے کاٹز کے بیان پر کہا کہ شرم تو صیہونی حکومت کو آنا چاہئے جو پینتیس ہزار فلسطینی شہید کر چکی ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular