
استنبول: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سے کئی گھنٹے طویل ملاقات کی اور انہیں مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور حماس کو 1920 کی ترک انقلابی افواج کے مترادف قراردیا۔ انہوں نے ملاقات کے دوران اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کے ماحول میں غزہ پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت پر زوردیا۔ ملاقات سے دو روز قبل ترک صدر نے پارلیمنٹ سے خطاب میں حماس کا موازنہ 1920 کی ترک انقلابی افواج سے کیا تھا اور کہا تھا کہ حماس کا کردار بالکل وہی ہے جو ترکی کی قومی افواج نے جنگ آزادی کے دوران ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ بات کہنے کی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ موجودہ دور میں حق اور سچ کی حمایت ایک مشکل کام ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ دنیا اس بات کو سمجھ لے کہ ہم دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزام کو بھی مسترد کردیا۔ اسماعیل ہنیہ نے ترک صدر کے جرات مندانہ بیان کا خیر مقدم کیا۔
تاہم اسرائیل کے فسطائی ذہن وزیرخارجہ اسرائیل کاٹز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس ملاقات پر اپنی جھنجلاہٹ کا اظہار کیا اور حماس پر زنا بالجبر، قتل اور لاشوں کی بے حرمتی کا الزام لگایا اور صدر اردوان کو اس ملاقات پر برا بھلا کہا ہے۔ ترک وزارت خارجہ نے کاٹز کے بیان پر کہا کہ شرم تو صیہونی حکومت کو آنا چاہئے جو پینتیس ہزار فلسطینی شہید کر چکی ہے۔


































