
تہران : ایران نے ٹرمپ کی توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں کو جنگی جرائم کے ارادے کا کھلا اعتراف قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ صنعتی و پیداواری ڈھانچے، اسپتالوں، اسکولوں، رہائشی علاقوں اور جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کی مذمت کریں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین بیانات ایران کے خلاف مجرمانہ ذہنیت کا مظہر ہیں اور انہیں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ادھر ولی امر مسلمین کے سینیئر مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ مزاحمتی محاذ کی متحدہ کمان باب المندب کو آبنائے ہُرمز کی طرح دیکھتی ہے ، امریکا نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو عالمی توانائی اور تجارت کا بہاؤ ایک ہی وار سے مفلوج ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب تک طاقت کے جغرافیے کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکا۔


































