Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

آج کا مسلمان اور قرآن کی مہجوریت

تحریر: محمد علی جوہری


یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن کے نزول کا اصل ہدف انسانیت کی ہدایت ہے، جس کی تصدیق خود قرآن کریم نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 185 میں اس طرح کی ہے، ۔ ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے اور اس میں اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے تناظر میں یہ بات واضح ہے کہ قرآن کریم کے نزول کا مقصد انسان کی ہدایت ہے تاکہ انسان قرآن پاک کی نورانی آیات اور کلمات پر غور و فکر کرکے انکے راز کو سمجھ کر انسان کی خلقت کے فلسفے کو سمجھے اور فلسفہ خلقت انسان کو سمجھنے کے بعد کمال کی جانب اپنے سفر کو آگے بڑھائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر مختلف انداز میں آیات الٰہیہ میں تفکر اور تدبر پر بہت زور دیتے ہوئے امت مسلمہ کو بڑی سنجیدگی کیساتھ اس مسئلے پر غور و فکر کرنے کی بہت تاکید کی ہے اور اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن پاک میں جگہ جگہ پر جیسی تعبیرات کے ذریعے غور و فکر کی دعوت دی ہے۔
چنانچہ اس مقدر ساز کتاب کی رو سے انسان کی فلاح و بہبودی اور کامیابی و کامرانی کے تمامتر اسرار و رموز تفکر اور تدبر میں مضمر ہیں، اسی لئے قرآن کریم نے بغیر تفکر و تدبر کے کسی بھی مذہبی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی اقدام اور تقلید کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ چنانچہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اسی نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "جس قرآت میں تدبر اور تفکر نہ ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں” یعنی قرآن کی ورق گردانی سے نزول قرآن کا اصل ہدف اور مقصد حاصل نہیں ہو سکتا جب تک اس میں تدبر اور تفکر سے کام نہ لیا جائے۔ تدبر اور تفکر سے متعلق قرآن کریم اور روایات میں بار بار تاکید کے باوجود آج کا مسلمان قرآن پاک کو محترم سمجھنے کے سوا اس بحر ِبیکراں سے اور کچھ حاصل نہ کرسکا۔
جس کے نتیجے میں اس مقدس اور محترم کتاب کو تعویز اور قرآت ختم قرآن تک ہی محدود رکھا اورانسانیت کو شاہراہ کمال پر گامزن کرنے والی یہ عظیم کتاب، مہجوریت کے نتیجے میں جعلی پیروں اور فقیروں کیلئے معاش کا ذریعہ بن گئی۔ اس تعلیم یافتہ اور ترقی پذیر دور میں بھی مسلمان نے قرآن کو بالائے طاق رکھ کر اس کے نورانی تعلیمات سے غفلت اور عدم توجہی کے سبب اپنی زندگی کا خاتمہ کیا اور تعلیمات قرآنی کو فراموش کرکے بامقصد زندگی کو بے مقصد بناکر اپنی زندگی کو تنگ و تاریک گلیوں میں قید کردیا، جس کے نتیجے میں آج مسلمان خوار و ذلیل ہوکر دشمنان قرآن کے سامنے دست ذلت دراز کرتا ہوا نظر آتا ہے، چنانچہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
مہجوریت قرآن اور تعلیمات قرآنی سے دوری سبب بنی کہ مذہب کے نام پر اسلام دشمن عناصر نے اسلامی لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، انہوں نے اپنے شیطانی منصوبوں کی تکمیل کے لیے جعلی پیروں، فقیروں اور جعلسازوں کے ذریعے تاریخ اسلام کی عظیم الشان ہستیوں کے مقدس مشن کو بٹورنے کے ساتھ امت مسلمہ کو مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر ڈالا اور قرآنی تعلیمات کے بر خلاف مسلمانوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بناکر انہیں آپسی جنگوں میں الجھاکر رکھ دیا، جسکے نتیجے میں آج اسلامی معاشرہ "صم بکم عمی± فھم لایعقلون” کا مصداق بارز بن گیا ہے۔ آج مسلم معاشرے میں اگر بے حیائی، ذلت اور رسوائی جیسی ہزاروں برائیاں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہیں تو اسکی وجہ صرف اور صرف قرآن کریم سے دوری ہے کیونکہ ہم نے قرآن کریم جو ہمارے لیے منبع ہدایت ہے کو پس پشت ڈال کر مہجور اور مظلوم بنادیا ہے۔
کتاب حکیم کے حق کو ادا کرنے میں جس قدر ہم غفلت کا شکار ہوئے ہیں اس کی سابقہ ادوار میں شاید ہی کوئی نظیر ہو، جس کی وجہ سے آئے دن قرآن ہماری زندگی کے شیڈول سے ناپید ہوتا جارہا ہے۔ گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے حوالےسے بارگاہ الٰہی میں مہجوریت پر مبنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکوے کی صدائے بازگشت: اور رسول نے کہا (یا رسول کہے گا): اے میرے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑی ہوئی چیز بنا دیا۔ آج کے دور میں بہت زیادہ سنائی دیتی ہے۔ چنانچہ آج کا مسلمان اپنے بچوں کی دنیا کو سنوارنے کے لیے بڑی رقم صرف کرتے ہوئے انکو انگریزی جیسی دنیا کی مختلف زبانیں سیکھنے پر مجبور تو کرتا ہے تاہم قرآن کریم کے مفاہیم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے بنیادی قواعد کو اپنے بچوں اور بچیوں کیلئے سکھانے کی ضرورت تک محسوس نہیں کرتا۔
چنانچہ قرآن کریم کے حوالے سے آج مسلمان کے اس رو سے جہاں قرآن کریم کی مہجوریت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں قرآن پر مسلمان کے ایمان کے دعوے کی عملی حیثیت بھی واضح ہوتی ہے اور یہ بات تمام مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، لٰہذا امت مسلمہ اگر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہے اور قرآن کریم سے دوری کے نتیجے میں جو ذلت و خواری اس کا مقدر بن چکی ہے، اس سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کیلئے لازم ہے کہ وہ پھر سے قرآن کریم کو اپنے منشور حیات میں شامل کرنے کے ساتھ اسے مہجوریت سے نکالنے کی کوشش کرے تاکہ آج کے مسلمان اور مہجوریت قرآن کے درمیان پائے جانے والے رابطے کو ختم کرنے کے ساتھ، پھر سے قرآن کریم کے ساتھ رشتے کو برقرار کرتے ہوئے امت مسلمہ کی دین و دنیا دونوں کو آباد کیا جاسکے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular