
چمن : پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے تین دن بعد چمن سرحد آمدورفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔ سرحدی شہر چمن سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اورعلما کے وفد نے گزشتہ روز سرحد کی بحالی کے لیے طالبان حکام سے مذاکرات کیے تھے۔ جھڑپ کے بعد سرحد بند ہوگئی تھی جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ پھنس گئے تھے۔ جھڑپ کے دوران 3 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سرحد پر گشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ عسکریت پسند گروپ افغانستان کی سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان نے پاکستان سے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے بیانات کی تردید کی ہے لیکن ساتھ ہی طالبان اس خاردار تار پر معترض ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر لگائی جا رہی ہے۔ چمن سپین بولدک سرحد پر ہونے والی جھڑپ کا الزام دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر لگایا تھا۔


































