
واشنگٹن : امریکا کی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے اعتراف کیا ہےکہ جون میں ایران پر حملوں کے بعد ایسی کوئی شہادت نہیں ملی کہ ایران یورینیئم افزودہ کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہو۔ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بریفنگ میں تلسی گبارڈ نےکہا کہ دو ہزار پچیس میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں افزودگی پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے ایران کی جانب سے اس صلاحیت کو بحال کرنے کی کوئی کوشش نہیں دیکھی گئی۔ امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ایران کی حکومت تاحال برقرار ہے تاہم اس کی قیادت اور فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تلسی گبارڈ نے کہا کہ اگر ایرانی قیادت جنگ میں بچ گئی تو انہیں اپنا میزائل اور ڈرون پروگرام از سر نو تعمیر کرنے میں سال سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ گبارڈ نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات کا بھی اظہار کیا جو عالمی تجارت کیلئے ایک اہم گزرگاہ ہے۔
سماعت کے دوران سینیٹر جان اوسوف کے سوال پر انہوں نے ایران کو فوری خطرہ قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعین صرف امریکی صدر ہی کر سکتے ہیں۔


































