
بیروت : حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اندورنی بحران سے توجہ ہٹانے کیلئے غزہ پر بمباری اور قتل و غارت کی نئی مہم کا آغاز کیا۔ لیکن یہ حکمت عملی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ حسن نصر اللہ نے اسلامی جہاد کے کمانڈروں کی شہادت پر تعزیت کا اظہارکیا۔ انہوں نےکہا کہ سب جانتے ہیں کہ نیتن یاہو نے اسلامی جہاد کمانڈروں کو اہل خانہ سمیت شہید کرکے جارحیت کا آغاز کیا۔ اس جارحیت کے پیچھے نیتن یاہو کے مقاصد واضح تھے وہ ڈیٹرنس بحال کرنا، اندرونی بحران سے بھاگنا، اپنی اتحادی کابینہ میں تقسیم سے نمٹنا اور اپنی سیاسی اور انتخابی حیثیت کو بہتر بنانا چاہتا تھا لیکن اس کا حساب کتاب ناکام رہا کیونکہ اس نےاسلامی جہاد کونشانہ بنانے اور باقی دھڑوں کو بچانے اور مزاحمتی محاذ کے اندر افراتفری پھیلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔حسن نصراللہ نے کہا کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتحاد کی بدولت غزہ میں مزاحمت طاقتور ہے۔مزاحمتی دھڑوں کے اتحاد نے قبضے کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ عالمی برادری خاموش ہے اور امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو غزہ میں خواتین اور بچوں کے قتل پر اسرائیل کی مذمت کرنے سے روکا۔


































