
بیروت : صیہونی فوج نے جنگ بندی کے باوجود لبنان میں قیامت ڈھادی۔ وحشیانہ فضائی حملوں میں دو سو چوون افراد شہید اور بارہ سو سے زائد زخمی ہوگئے۔ حملوں میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ صیہونی فوج نے لبنان پر حالیہ تنازع میں اب تک کے سب سے مہلک حملے کئے ہیں۔ رہائشی عمارتوں۔ مساجد۔ اسکول اور اسپتال پر شدید بمباری کی گئی۔ اسرائیلی فوج نے قبرستان میں موجود درجنوں افراد کو نشانہ بنایا، بمباری کا نشانہ بننے والے افراد جنازے میں شریک تھے۔ صیدون۔ طائر۔ عدلون۔ وادی بقاع۔ بیروت اور مضافاتی علاقوں میں آتش و آہن کی بارش سے بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔ مسلسل گونجتے ایمبولینسوں کے سائرن سے خوف کی لہر دوڑ گئی۔ اسپتال زخمیوں اور لاشوں سے بھر گئے۔ درجنوں شدید زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے جس سے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہاہےکہ لبنان، ایران امریکا جنگ بندی معاہدے میں شامل نہیں ہے۔ اسرائیل کے آرمی چیف جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ لبنان میں حزب اللّٰہ کے ٹھکانوں پر بغیر سمجھوتے کے حملے جاری رکھیں گے، حزب اللّٰہ کے خاتمے کے لیے ہر موقع کا فائدہ اٹھائیں گے.
لبنانی صدر جوزف عون نے لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی سے متعلق کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ صیہونی وزیر دفاع نے حزب اللہ کے متعدد ارکان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیل کاٹز نے دھمکی دی ہےکہ جلد ہی حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہاہےکہ لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔


































