Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

لفظی موحد، عملی مشرک

آیت اللہ محمدتقی مصباح یزدی


عرفان کا مقصد اس مقام کو حاصل کرنا ہے جس پر فائزہونے کے بعد انسان اپنے آپ کو نور الٰہی کاایک سایہ دیکھتا ہے اور اپنے لیے کسی مقام اور منزلت کا قائل نہیں ہوتا۔سیرالی اللہ کا نتیجہ اپنے وجود اور تمام مخلوقات کے استقلال کی نفی کرنا ہے۔ ہم ابھی اپنے آپ اور اپنے اطراف کی تمام اشیاءکو مستقل جانتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ،ہم ہر چیز کے لیے بت کے قائل ہیں۔ اور ہر کوئی کسی نہ کسی عنوان سے ان بتوں کی پرستش میں لگا ہے ہمیں ان بتوں کو توڑکر صرف خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو نا چاہیے۔ خدا کے علاوہ کوئی چیز بھی لائق پرستش نہیں ہے عرفان واقعی یہ ہے کہ حقیقت "لا الہ الا اللہ ” کو اپنے دل وجان اور اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ہم اپنی زندگی اور اپنے روز مرہ کے کاموں میں جب دقت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہم بہت سارے خداو¿ں کے قائل ہیں اور مختلف اعتبار سے شرک پرستی میں آلودہ ہو چکے ہیں۔ ہم میں سے بہت ساروں کی صرف زبان ” لا الہ الا اللہ” کہتی ہے جبکہ در حقیقت ہماری ہویٰ و ہوس ہمارا معبود ہے۔
”کیا دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی ہوی و ہوس کو اپنا معبود بنا رکھا ہو“۔
جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے وہ کیسے لا الہ الا اللہ کہہ سکتا ہے۔ اس لیے کہ قرآن یہ بھی کہتا ہے:
”ان میں کی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ“۔
جس نے قرآن کے بقول اپنی خواہشات کو خدا بنا لیا ہو ممکن ہے وہ زبان سے لاالہ الا اللہ کہے لیکن دل میں کہتا ہے لاالہ الا انا۔ ایسے شخص کی رفتار یہ بتا رہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا مانتا ہے۔ دل سے اپنے نفس کی اتباع کرتا ہے۔ اب یہ انسان کی خواہشات کسی بھی نوعیت کی ہوں فرق نہیں پرتا، خواہ وہ شکم پرستی ہو یا مقام پرستی، ثروت پرستی ہو یا شہوت پرستی۔ سب کی سب خواہشات نفسانی کہلاتی ہیں۔ اور ان میں سے بد ترین قسم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے مقابلہ میں لا کر کھڑا کر دے۔ اور اس کی پرستش کرنا شروع کر دے۔ اور اس شعار ” انا ربکم اعلی”کا مصداق بن جائے۔
اگر ہم چاہیں کہ خود پرستی اور ہویٰ پرستی سے کنارہ کشی اختیار کر لیں ۔تو اس طریقے سے کہ ہمارا شکم ہم پرمسلط نہ ہو بلکہ ہماری لگام ہمارے ہاتھوں میں ہی رہے اور جن غذاو¿ں سے خدا راضی نہیں ہے انہیں نہ کھائیں۔ ابھی ہم نے بتِ شکم کو توڑا ہے ابھی اس سے اہم بت ، بت ِشہرت باقی ہے۔
”مومنین سے کہہ دو کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں“۔(القرآن)
شہوت کو مکمل طور پر انسان کے کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ البتہ اس کنٹرول کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہم جنسی غرائز کا مقابلہ کریں اور اسے ختم کر دیں بلکہ جیسے خدا چاہتا ہے ویسے عمل کریں۔ کبھی جنسی غریزہ کا استعمال واجب ہوتا ہے کہ اس صورت میں نہ صرف مذموم نہیں ہے بلکہ عبادت اور اطاعت خدا کے مترادف اور قرب الٰہی کا باعث بنتا ہے جنسی غریزہ کا استعمال اگر چہ بظاہر حیوانی عمل ہے لیکن چونکہ ان موارد میں رنگ الٰہی رکھتا ہے اور در واقع شہوت انسان کے ارادہ کی اسیر ہو جاتی ہے اور ارادہ الٰہی سے کنٹرول ہوتی ہے لہذا عبادت کہلاتی ہے۔ اس طریقے سے بت شہوت بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
ابھی بھی کام پائے تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔ ابھی بہت سارے دوسرے بت اپنی جگہ پر باقی ہیں، بت غصہ و غضب، بت مقام و منزلت، بت مال و ثروت، بت شہرت وغیرہ۔ بہت سارے لوگ اپنی شہوت پر کنٹرول تو کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کی شان میں جسارت کرے تو تحمل نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ غصہ و غضب کے بت کے سامنے تسلیم ہیں۔ مومن کو ایسا ہونا چاہیے کہ اگر کوئی ناحق بھی اس کی توہین کر دے تو اسے تحمل کرنے کی تاب اس کے اندرہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر یہ تمام بت ،بت کدہ نفس سے توڑ دئے جائیں اور وجود انسان پر صرف خدا کی حکومت ہو اس وقت انسان صداقت کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہنے کا حق رکھتا ہے ورنہ اس کے بغیر اس کی شہادت اور توحید کی گواہی شرک کے ساتھ آلودہ ہو گی۔
لا الہ الا اللہ اور توحید کی حقیقت کو انسانی زندگی اور اس کی رفتار اور گفتار کے اندر مجسم کرنے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ انسان عقل سے وحدانیت خدا کو ثابت کرے بلکہ اہم یہ ہے کہ انسان حقیقت توحید کے سامنے تسلیم محض ہو جائے۔ اس کا کلی راستہ یہ ہے کہ ہم نے جو اپنے نفس کو اور اپنے بتوں کو حاکمیت کا حق دے رکھا ہے اسے واپس لیں اور اس حق کو اپنے واقعی مالک کے حوالے کر دیں۔ اور دوسرے الفاظ میں ، انسان بندگی کرنے او ر اس کا بندہ ہونے کا راستہ انتخاب کرے۔ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم بندہ نہیںہیں بلکہ ہم خود خدا ہیں۔ ہم نے اپنے آپ کو خدا سمجھ رکھا ہے۔ اپنے نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔لہذا ہم بندے نہیںہیں مقامات عرفانی تک رسائی حاصل کرنے کا تنہا راستہ یہ ہے کہ اس کی بندگی میں خالص ہو جائیں:”آگاہ ہو جاو¿ کہ دین خالص صرف اللہ کے لیے ہے“۔(القرآن)
ہمیں کوشش کرنی چاہیے تا کہ اس کے خالص بندے بن جائیں۔بندگی او ر بندہ بننا وہ مقام ہے جسے خدا وند عالم نے اپنی عزیز ترین مخلوقات کو عطاکیا۔
”پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو اپنے بندہ کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک لے گیا جس کے اطراف کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تا کہ ہم اسے اپنی بعض نشانیاں دکھلائیں“۔(القرآن)
پیغمبر اسلام جب معراج پر جاتے ہیں اور خدا وند عالم کی مخصوص آیات اور نشانیاں انہیں دکھلائیں جاتی ہیں تب انہیں” عبد” کا لقب ملتا ہے۔ہم نماز میں بھی خدا کی وحدانیت کی گواہی دینے کے بعد پیغمبر اسلام کی عبودیت کی گواہی دیتے ہیں۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ۔ و اشھد ان محمد عبدہ و رسولہو۔
ایک بزرگ عارف سے پوچھا گیا : انسان اور خدا کے درمیان کتنا راستہ ہے ؟ جواب میں انہوں نے کہا ایک قدم۔ کہا: عجیب ! کیسے ایک قدم؟ کہنے لگے: تم اپنا قدم اٹھاو¿ اور اپنے نفس کی گردن پر رکھ دو خدا تک پہنچ جاو¿ گے۔
جی ہاں ، عرفان واقعی کے راستے میں صرف ایک ہی مشکل ہے اور وہ ہے اطاعت نفس اور اطاعت خدا کے درمیان تردد۔ ہم خود اپنے لیے حجاب ہیں۔ اگر اپنے نفس کو زیر پا رکھیں تو ہمارے اور ہمارے خدا کے درمیان کوئی حجاب نہیں رہے گا۔ خداکی بندگی میں مشغول رہیں۔ اگر خدا کا بندہ بن جائیں تو خدا تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن اگر اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھیں۔ ( اور اپنے نفس کو اپنا معبود بنا لیں) تو سوائے خدا سے دوری اور ہلاکت اور نابودی کے کچھ بھی نصیب نہیں ہو گا۔
دعائے ابو حمزہ ثمالی میں وارد ہوا ہے:” بار الٰھا!تو اپنی مخلوق سے اوجھل نہیں ہوتا اور پردے کے پیچھے نہیں چھپتا مگر یہ خود تیری مخلوق کے اعمال ہیں کہ جو تیرے اور ان کے درمیان حجاب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں“۔
ہمارے برے اعمال ہیں جو ہمارے اور خدا کے درمیان حجاب بنتے ہیں۔ ورنہ خدا بخیل نہیں ہے کہ وہ لوگوں سے قریب نہ ہو۔ وہ نہ صرف بخیل نہیں بلکہ اس نے اپنے محبوب ترین اور بہترین بندوں کو اس کام کے لیے بھیجا ہے اورا ن میں سے بہت سارے اسی راہ میں قربان بھی ہو گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تقرب اپنے اختیار سے حاصل ہونا چاہیے نہ جبر اور زور زبردستی سے۔ اگر انسان سے اختیار کو سلب کر لیا جائے تو انسان انسان نہیں رہے گا اور اس مقام اور منزلت تک نہیں پہنچ پائے گا۔
سیر و سلوک کے مراحل
اگر چہ "سیر” کا مطلب راستہ چلنا، خدا کی طرف قدم بڑھانا اور اس کی بندگی کرنا ہے لیکن انسان پر اس راستے میں اس کے اور نزدیک ہونے کے اعتبارسے جو مختلف حالات طاری ہوتے ہیں انہیں مختلف منازل اور مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ بعض بزرگوں نے اس راستے میں انتھک زحمتیں اٹھائیں ہیں۔
جب انسان چاہتا ہے کہ خدا کی طرف حرکت کرے تو جب تک اس کمال نہائی تک پہنچ نہیں جاتا اسے متعدد منازل سے گزرنا پڑتا ہے۔شاید ان میں سے معروف ترین یہی ” منازل السائرین” ہیں جو خواجہ انصاری نے مرتب فرمائے ہیں۔
بہر حال اگر ہم چاہیں کہ ان منازل کو فہرست کے طور پر ذکر کریں تب بھی گفتگو لمبی ہو جائے گی اور خاص کر کے اگر چاہیں کہ انکی نقد کو بھی بیان کریں لہذا ہم یہاں اس تقسیم کو بیان کرتے ہیں جو مختصر تر ہے اور بزرگان نے بھی اپنی فرمائشات میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular