
نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ امریکا عالمی قوانین کو نظرانداز کرکے طاقت کے بل پر فیصلے کر رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے مسائل کے کثیرالجہتی حل غیر متعلق ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی نظام میں طاقت کی بالادستی قوانین کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور ممالک کے پاس وہ اثر و رسوخ ہے جو اقوام متحدہ کے پاس نہیں۔ بین الاقوامی تعاون کے بغیر دنیا میں امن و استحکام نہیں آسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ اب موجودہ دنیا کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتا۔ ویٹو کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کے حل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ گوتریس نے سلامتی کونسل کی تشکیل نو، ویٹو پاور کو محدود کرنے اور پوری دنیا کو مؤثر آواز دینے کا مطالبہ کیا تاکہ ادارہ اپنی ساکھ دوبارہ بحال کر سکے۔


































