
تہران : ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہاہےکہ امریکا دس نکاتی تجویز کی تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں دوطرفہ جنگ بندی یا مذاکرات غیر معقول ہیں۔امریکا کے حوالے سے ہمارا گہرا تاریخی عدم اعتماد اس بات سے جنم لیتا ہے کہ اس نے بارہا تمام قسم کے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔ یہ سلسلہ بدقسمتی سے ایک بار پھر دہرایا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے اپنی ٹروتھ پوسٹ میں واضح طور پر کہا، ایران کی دس نکاتی تجویز مذاکرات کے لیے ایک “قابلِ عمل بنیاد” اور ان بات چیت کا بنیادی فریم ورک ہے مگر تجویز کی تین شقوں کی اب تک خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ ۔تجویز کی پہلی شق پرعمل نہ کرنا۔ جو لبنان میں جنگ بندی سے متعلق ہے۔ ایرانی فضائی حدود میں ڈرون کا داخل ہونا، جسے صوبہ فارس کے شہر لار میں تباہ کیا گیا، یہ فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرنے والی شق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ ایران کے یورینیم افزودگی کے حق سے انکار، جو اس فریم ورک کی چھٹی شق میں شامل تھا۔ اب وہی “قابلِ عمل بنیاد”جس پر مذاکرات ہونا تھے، مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی کھلم کھلا پامال ہو چکے ہیں.


































