
تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے بعض علاقائی ممالک کو پیغام دیا تھا کہ صرف ایک ماہ صبر کریں، جنگ ختم ہو جائے گی اور ایران کا مسئلہ ہمیشہ کےلیے حل ہو جائے گا۔ ایرانی ٹی وی کو انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے تجربے کی بنیاد پر یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ اگر ایران کی اعلیٰ قیادت کو ہٹا دیا جائے تو نظام خود بخود ختم ہو جائے گا۔ عراقچی نے کہا کہ دوست ممالک نے بھی کہا کہ انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ ایران کا معاملہ مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل فوجی فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے، مذاکرات کا صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب آپ نے عسکری محاذ پر قابلِ اعتماد عملی اور تزویراتی کامیابی حاصل کر لی ہو۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اپنی ذاتی ساکھ یا مستقبل کی سیاست کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں کرتے۔ بعض لوگ صرف اپنی ساکھ بچانے کے لیے فیصلے کرتے ہیں، لیکن میں ایسے طرزِ عمل کو خیانت سمجھتا ہوں۔عراقچی نے مزید بتایا کہ دو جنگوں کے درمیانی عرصے میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں ایک جوہری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو بعد میں مذاکراتی کمیٹی میں تبدیل ہوئی اور چھ رکنی کمیٹی کے نام سے معروف ہوئی۔ ابتدا میں اس کی سربراہی علی شمخانی کے پاس تھی، جبکہ بعد میں علی لاریجانی نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق تمام اہم فیصلے اسی کمیٹی میں ہوتے تھے اور پھر انہیں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ عراقچی نے مزید کہا کہ مخالفین نے ابتدا میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا، لیکن آخرکار ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک بات پہنچی۔
انہوں نے کہا کہ 12 روزہ جنگ سے قبل ایک علاقائی رہنما نے انہیں بتایا تھا کہ جنگ یقینی ہے اور ایران سے درخواست کی تھی کہ وہ جواب نہ دے کیونکہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔ عراقچی کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ ایران کے کسی بھی حصے پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا جس پر وہ علاقائی رہنما ناراض ہو گیا۔


































