
نیویارک : اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ غزہ میں قحط وقتی طور پر ٹل گیا ہے، مگر انسانی صورتحال بدستور نہایت نازک ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ کی پچھتر فیصد سے زائد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سولہ لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا سنگین خطرہ لاحق ہے۔ گوتریس کے مطابق غزہ کے نصف سے زیادہ علاقوں میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے باعث زرعی زمینیں اور پورے کے پورے محلے شہریوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہوں نے صورتحال کو نہایت ناپائیدار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معمولی پیش رفت بھی کسی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دیرپا جنگ بندی کا مطالبہ دہراتے ہوئے مزید سرحدی گزرگاہیں کھولنے پر زور دیا۔ گوتریس نے کہا کہ اہم اشیا پر عائد پابندیاں ختم، غیر ضروری رکاوٹیں دور اور غزہ کے اندر محفوظ راستے فراہم کیے جائیں۔


































