
ماسکو: روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے پانچویں بار صدارت کا حلف اٹھالیا۔ امریکا اور برطانیہ سمیت بیشتر یورپی ممالک نے تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ صدر پیوٹن نے چھ سالہ مدت کیلئے حلف اٹھایا ہے۔ تقریب حلف برداری سے خطاب میں پیوٹن نے ایک بار پھر یورپ سے مذاکرات کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ ہتھیاروں پر کنٹرول کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ تزویراتی استحکام کے مسائل پر بات چیت ممکن ہے۔ یہ مذاکرات یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برابری کی سطح کی شرط پر مذاکرات کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ ہم متحد اور عظیم لوگ ہیں، ہم سب مل کر تمام رکاوٹوں پر قابو پالیں گے۔ ہم اپنے تمام منصوبوں کومکمل کریں گے اور ہم مل کرجیتیں گے۔
ادھر یوکرائنی سیکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ اس نے صدر زیلنسکی اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے قتل کی روسی سازش کو ناکام بنادیا ہے۔یوکرائنی حکومت کے تحفظ کے یونٹ کے دو کرنل گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ وہ مبینہ طور پر زیلینسکی کے باڈی گارڈز میں سے اغوا اور قتل کرنے کے لیے آمادہ "قاتلوں” کی تلاش کر رہے تھے۔


































