
نئی دہلی: ہندوستانی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں حد بندی کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کردیا۔سرینگر کے رہائشی درخواست دہندگان حاجی عبدالغنی خان اور محمد ایوب متو نے حدبندی کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیاگیا کہ 2026 سے پہلے ملک میں کہیں بھی ری ڈرائنگ یا حلقہ بندی پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود کمیشن نے نہ صرف حلقہ بندیاں کیں بلکہ اس پورے عمل میں بد نیتی اور غیر منصفانہ طریقے سے ہندوتوا حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچایا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرسکے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ آسام، اروناچل پردیش، منی پور اور ناگالینڈ میں گزشتہ 51 سالوں سے حد بندی نہیں کی گئی ہے۔تاہم سپریم کورٹ نے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے حدبندی کو جائز قراردیا۔


































