
غزہ : حماس نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے لیے تحریری معاہدے کی منظوری دے دی۔ تاہم اس پر عمل درآمد اسرائیل کے پہلے مرحلے کی مکمل عملداری سے مشروط قرار دیا ہے۔ حماس کے سینئر رہنما غازی حمد نے کہا کہ معاہدہ باہمی اور بیک وقت اقدامات پر مبنی ایک جامع پیکیج کی صورت میں طے پایا ہے۔۔ غازی حمد کے مطابق بھاری ہتھیار قومی انتظامی کمیٹی کی نگرانی میں دیے جائیں گے جبکہ دیگر اقدامات مرحلہ وار مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل پہلے مرحلے کی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو حماس بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کرے گی۔ غازی حمد نے کہا کہ یہ معاہدہ حماس کے لیے مشکل فیصلہ تھا، لیکن غزہ میں انسانی بحران اور مزید تباہی سے بچنے کے لیے اسے قبول کیا گیا ہے۔


































