
نئے قومی پروگرام پر اتفاق،جامع مزاحمتی پروگرام کا آغاز،پی ایل او کے تنظیمی ڈھانچے پر نظرثانی اورعلاقائی عرب اسلامی اتحاد کی تشکیل ایجنڈے میں شامل
کوئی قوم بھی اس وقت تک آزاد نہیں ہو پاتی، جب تک وہ قابض قوتوں کے خلاف بندوق اٹھا کر ا±سے اپنے وطن سے نکال باہر نہ کر دے، اسماعیل ہنیہ
غزہ (نیوز ڈیسک) مسئلہ فلسطین کے حل میں حائل مشکلات سے نمٹنے کیلئے حما س نے چار نکاتی ایجنڈہ پیش کردیا،حما س کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے تمام مزاحمتی تحریکوں کو 4 نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کی دعوت دی ،چار نکاتی ایجنڈے میں فلسطینیوں کے درمیان ایک نئے قومی پروگرام کے آغاز پر اتفاق اور اوسلو معاہدہ کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا، غاصب صہیونیحکومت کیخلاف جامع مزاحمتی پروگرام کا آغاز، عوامی مزاحمتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور مسلح مزاحمت اولین ترجیح ہوگی، فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے تنظیمی ڈھانچے پر اس انداز میں نظرثانی کہ وہ تمام فلسطینی مزاحمتی فورسز کو اپنے اندر سمو سکے اور خطے کے اندر ایک ایسے عرب اسلامی اتحاد کی تشکیل جو ٹھوس اصولوں پر استوار فلسطینی موقف کو تشکیل دے، اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ غاصب صہیونیحکومت مغربی کنارے کی مزید فلسطینی سرزمین کو اسرائیل میں شامل کرنے کے حوالے سے جتنا خطرہ فلسطین کے لئے پیدا کر رہی ہے، اتنا ہی خطرہ اردن اور فلسطین کے دوسرے ہمسایہ ممالک کےلئے بھی پیداکر رہی ہے ، حقیقی خطرات سے نمٹنے کے لئے اٹھائے گئے ضروری اقدامات کے حوالے سے عرب و اسلامی دنیا بالخصوص اردن کے ساتھ فلسطینی رابطہ نہ صرف انتہائی ضروری بلکہ ایک حکمت عملی بھی ہے ، فلسطین سمیت پورے خطے کے اندر مزاحمتی محاذ کا یہی ایجنڈہ ہے، جو کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا ہے نہ کہ غاصب صہیونیحکومت کے ساتھ معمول کے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کا پراجیکٹ، انہوں نے کہا کہ کوئی قوم بھی اس وقت تک آزاد نہیں ہو پاتی، جب تک وہ قابض قوتوں کے خلاف بندوق اٹھا کر ا±سے اپنے وطن سے نکال باہر نہ کر دے۔


































