
تہران : ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات سے قبل انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ بات چیت کے لیے ضروری نیت اور ارادہ موجود ہونا چاہیے، تاہم ماضی کی دو جنگوں کے تجربات کے باعث ایران مخالف فریق پر مکمل بھروسہ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے مختلف تجاویز پیش کیں، لیکن مخالف فریق اس مرحلے پر اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہا۔ قالیباف کے مطابق امریکا کو ایران کے مؤقف، منطق اور اصولوں کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے اور اب فیصلہ اسی نے کرنا ہے کہ آیا وہ اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے ایران سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی جدوجہد پر بھی یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چالیس دن کی جنگ کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایران کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔ محمد باقر قالیباف نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے شکریہ بھی ادا کیا۔


































